Urdu book · زلزلۂ قیامت

طوفان

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

طوفان ڈر اس سے جو وقت آنے والا ہے، اس کے لیے تیاری کرنی چاہیے، کیونکہ کسی مسافر کی ٹرین اسٹیشن پر سامنے کھڑی ہو اور وہ اس میں سوار ہونے کے بجائے پلیٹ فارم کی بنچ پر جگہ حاصل کرنے کے لئے کش مکش کرے، تو ہر آدمی اس کو بیوقوف کہے گا۔ مگر ایک اور سفر کے معاملہ میں ساری دنیا اسی قسم کی نادانی میں مبتلا ہے اور کسی کو اس نادانی کا احساس نہیں۔ حتیٰ کہ جو شخص "ٹرین" کو چھوڑ کر پلیٹ فارم کی بنچ پر اپنے لئے کشادہ جگہ حاصل کر لیتا ہے، اس کو لوگ خوش قسمت کہتے ہیں اور عقل مند کا لقب دیتے ہیں۔ یہ دوسرا سفر موت کا سفر ہے۔ ہر روز لاکھوں آدمی مر کر ہم کو یہ سبق دیتے ہیں کہ زندگی کا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے، اس کی تیاری کرو۔ مگر انسان دنیا کی دلچسپیوں اور رنگینیوں میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اس کو آخرت کی دنیا کے لئے تیاری کا ہوش ہی نہیں۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ایسے باغ میں ہوں جس میں ہر قسم کے پھل اور میوے موجود ہیں اور اس باغ کے درمیان میں ایک بہت بڑا محل ہے جس کے چاروں طرف نہریں بہہ رہی ہیں اور اس محل کے اندر ایک تخت بچھا ہوا ہے جس پر ایک بزرگ تشریف فرما ہیں جن کے چہرے سے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں اور وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہے ہیں اور انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ اے میرے بیٹے! تم نے جو دین کی خدمت کی ہے اس کا صلہ تمہیں ضرور ملے گا اور تم جنت کے اعلیٰ درجات پاؤ گے، یہ سن کر میری آنکھ کھل گئی اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اس خواب کے ذریعے بشارت دی ہے۔ قبر دوسری زندگی کا دروازہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی شخص کے لئے اس دروازہ کو کھلتے ہوئے اور پھر اس کے اوپر اس کو بند ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں جو یہ جانتے ہوں کہ خود ان کے لئے بھی یہ دروازہ ایک روز کھولا جائے گا، اور پھر اسی طرح بند ہوگا جس طرح وہ دوسروں کے اوپر ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے۔ آدمی کی یہ نفسیات بھی کتنی عجیب ہے کہ دوسروں کو وہ ہر روز مرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے گویا اس کو ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ لوگ ایک ایک کر کے روزانہ خدا کے یہاں پیشی کے لئے بلائے جا رہے ہیں۔ مگر خود اپنے کو اس طرح الگ کر لیتا ہے گویا عدالت الہی میں حاضری کا یہ دن اس کے لئے کبھی نہیں آئے گا۔ ہے کہ وہ اس کے دل میں گھر کر گئی ہے اور اب وہ اس کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتا اس نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ کسی صورت ماننے کو تیار نہیں تھا آخر کار اس نے ہار مان لی اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا اب وہ دن رات اسی کے خیالوں میں کھویا رہتا ہے اور اسے اپنی زندگی کا مقصد سمجھنے لگا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page