خدا پرست
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا پرست طلباء کا گراه صوبے کا سب سے بڑا طبیہ کالج جاڑے کے موسم میں سانپ ٹھنڈا پڑارہتا ہے لیکن ذرا سا بھی دم چھوئیے تو وہ فوراً پھن نکال کر کھڑا ہوجائے گا۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ ایک شخص بظاہر نہایت شریف اور معقول نظر آئے گا لیکن اگر اس کی "انا" کو ضرب لگائیے۔ اس سے کسی معاملے میں اختلاف کر دیجئے تو اچانک وہ ایسا نامعقول بن جاتا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی شخص ہے جس سے اب تک آپ واقف تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر خدا بننے کی ایک تمنا چھپائے ہوئے ہے۔ جب آپ اس سے عقیدت مندی کے ساتھ ملتے ہیں، جب اس سے اس کی پسندیدہ باتیں کرتے ہیں تو اس کی خاموش تمنا کو تسکین ملتی رہتی ہے۔ اس کا لاشعور آپ کو قدردانی کی نظر سے دیکھتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک گویا آپ اس کے خدائی کے دعوے کو تسلیم کر رہے ہیں۔ مگر جب آپ ناقد کی حیثیت سے اس کے سامنے آئیں تو اس کا ردِ عمل بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اب وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ اس کے دعوے کو چیلنج کر رہے ہیں، وہ غصہ سے بھر کے آغاز میں بسہم اللہ کو۔ لیکن اگر ان کی "انار" پر ضرب لگائیے تو ایسا معلوم ہوگا گویا انھوں نے "بر عکس نہند نام زنگی کافور" کے اصول پر اپنے لئے یہ القاب تجویز کئے تھے۔ اپنے خلاف تنقید کو سن کر جو پس ردعمل کا اظہار کرتے ہیں اس سے ہرگز یہ معلوم نہیں ہوتا کہ فی الواقع وہ اپنے کو حقیر یا خاکسار یا کچھ نہ جاننے والا سمجھتے ہیں ۔ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ یہ کبر ہے اور خدا کے یہاں کبر کی معافی نہیں ۔ لا یدخل الجنة من كان فی قلبه مثقال حبة خردل من كبر، قیل وما الكبر قال: بطر الحق وغمط الناس۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا جس کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہو، پوچھا گیا کبر کیا ہے۔ فرمایا: حق کو نظر انداز کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے آزمائش کی خاطر اٹھنا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ کو مٹا ڈالے جس طرح نمرود اور فرعون نے اپنے خدائی کے دعوے کا انکار کرنے والوں کو مٹا دینا چاہا تھا۔ بہت سے لوگ ہیں جو اپنی کسی تحریر میں اپنے نام کے ساتھ "خاکسار"، "بیچدان"، "احقر العباد" جیسے الفاظ کو لکھنا اتنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جتنا تحریر پیدا کیا ہے۔ اس لئے اس کے اندر نفس کبھی رکھ دیا ہے جو اس کو برائیوں پر اکساتا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ تمیز کی قوت بھی انسان کے اندر موجود ہے جو اس کو حق و ناحق بتاتی رہتی ہے۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ کبھی کوئی ناموافق بات سن کر آدمی پر جھنجھلاہٹ اور غصہ طاری ہو جائے اور اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader