Urdu book · زلزلۂ قیامت

ایسا نہ ہو کہ خدا کا قانون ہمیں پکڑلے

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا نہ ہو کہ خدا کا قانون ہمیں پکڑلے گائے بھینس پالنے والوں کے سامنے ایک مسئلہ یہ رہتا ہے کہ مویشی کے دودھ کو اس کے بچہ سے کس طرح بچائیں۔ اس کا ایک طریقہ بعض علاقوں میں یہ ہے کہ بچہ کے سر پر ایک سینگ نما دو شاخہ لکڑی باندھ دیتے ہیں جس کو کٹیلا (کانٹے ڈالا) کہتے ہیں۔ بچہ جب دودھ پینے کے لئے جانور کے تھن کے پاس اپنا منہ لے جاتا ہے تو اس کے منہ سے پہلے اس کا کٹیلا جانور کے تھن سے ٹکراتا ہے اور جانور بدک کر ہٹ جاتا ہے۔ کٹیلا باندھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ اور اس کی ماں کا تھن دونوں ایک دوسرے سے ملنے ہی نہیں پاتے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ اس وقت مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ دوسری اقوام ان کے لئے مدعو (جس کو دعوت پہنچائی جائے) کی حیثیت رکھتی ہیں اور زہرہ ان کے اوپر حق کے داعی ہیں۔ مگر مسلمانوں نے عرصہ سے اپنی مدعو اقوام سے سیاسی اور معاشی لڑائی چھیڑ رکھی ہے۔ ہر جگہ وہ ان کے دنیوی اور مادی حریف بنے ہوئے ہیں۔ ٹکراؤ کی یہ سیاست ان کے ملی وجود کے اوپر ایک قسم کا کٹیلا پن کٹی گئی ہے۔ جب مسلمان اور دوسری قوموں کے افراد ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں تو قبیل اس کے کہ وہ مسلمانوں کی اسلامی حیثیت کو جانیں، ان کا تو کردار "کٹیلا" ان سے ٹکرا جاتا ہے اور وہ ان سے متنفر ہو کر الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ قضا بننے کی نوبت ہی نہیں آتی جس میں دوسری قومیں مسلمانوں کے دینی پیغام سے متعارف ہوں اور اس پر غیر جانب دارانہ انداز سے غور کریں اگر ہم کو یقین ہے کہ آخرت آنے والی ہے اور لوگوں سے ان کے اعمال کی پوچھ ہونے کی ہے تو ہمارے اوپر لازم ہے کہ اس کٹیلا کو اپنے اوپر سے اتاریں ۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو سخت اندیشہ ہے کہ خدا کا قانون ہم کو پکڑلے اور ہمارے اپنے جرائم کے ساتھ دوسری قوموں کا عذاب بھی ہمارے اوپر ڈال دیا جائے ۔ آدمی اسی چیز کو کھو رہا ہے جس کو وہ سب سے زیادہ پانا چاہتا ہے لوگوں کی دوڑ دھوپ آج کس چیز کے لئے ہے ۔ کھانا ، کپڑا ، مکان ، عزت ، خوش حالی اور پر مسرت زندگی ۔ ہر شخص اپنی ساری زندگی کو انھیں چیزوں کے حصول اور ترقی میں لگائے ہوئے ہے ۔ مگر مسرت کا واقعہ بتاتا ہے کہ آدمی موجودہ دنیا میں اپنے اس مطلوب کو انتہائی عارضی مدت کے لئے حاصل کرتا ہے۔ ان چیزوں کو پانے کی اصل جگہ وہ دنیا ہے جہاں آدمی کو ہمیشہ رہنا ہے۔ لوگ اپنی ساری طاقت دنیوی مستقبل کی تعمیر میں لگائے ہوئے ہیں، اُخروی مستقبل کی تعمیر کی کسی کو فکر نہیں۔ زندگی کے اگلے طویل تر مرحلہ میں وہ اسی چیز کو کھورہے ہیں جس کو وہ موجودہ عارضی دنیا میں سب سے زیادہ پانا چاہتے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ محرومی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page