موت کے دوسری طرف جنت ہے یا جہنم
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
"جو لوگ ان سطور کو پڑھ رہے ہیں، ان میں سے ہر شخص پچاس برس بعد مر چکا ہوگا۔ اس کے بعد اس کا ٹھکانا یا تو جنت ہے یا جہنم ۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کو جنت میں پہنچانے کی کوشش کروں۔" کیسی عجیب ہے یہ بات ۔ اور اس سے بھی زیادہ عجیب یہ ہے کہ یہ بات ایک کھلاڑی کی زبان سے آج کی دنیا کو سننے کو ملتی ہے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا کو آنے والے دن کی چیتا دونی دیں۔ ہر دن لاکھوں انسان زمین پر مررہے ہیں۔ مگر ان کو نہیں معلوم کہ وہ مرکر کہاں جارہے ہیں۔ پیغمبر کے ذریعہ اللہ نے اس راز کو کھولا ہے اور پیغمبر کے بعد ہمارے اوپر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ ہم اس سب سے بڑی حقیقت سے اہل عالم کو باخبر کریں تاکہ لوگ زندگی کے اگلے مرحلہ میں داخل ہونے سے پہلے اس کے مسائل سے واقف ہو جائیں اور ابھی سے اس کی تیاری شروع کردیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں بے شمار مسلم تحریکیں ساری دنیا میں کام کر رہی ہیں۔ مگر کوئی ایسی تحریک نہیں جو فی الواقع اس لئے اٹھی ہو کہ دنیا والوں کو اس آنے والے ہولناک دن سے آگاہ کرے۔ یاد رکھئے اللہ کی نظر میں ہماری قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ ہم اس کا مطلوبہ کام کر رہے ہوں۔ اگر ہم اس کام کو انجام نہ دیں تو اللہ کی نظر میں ہماری کوئی قیمت نہیں۔ خدا کو نہ ہماری کراماتوں کی ضرورت ہے اور نہ ہمارے انقلابی نعروں کی۔ اس کو نہ نشان دار عمارتیں درکار ہیں اور نہ جگمگاتے ہوئے پنڈال ۔ اس کو تو صرف یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس سے باخبر ہو جائیں کہ ان کا رب بالآخر ان سے کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ آدمی دن کی روشنی میں یہ سمجھ کر اپنا نظام بناتا ہے کہ تھوڑی دیر میں شام آنے والی ہے اور رات کو اس یقین کے ساتھ سوتا ہے کہ چند گھنٹوں کے بعد ضرور صبح ہوگی۔ مگر آخرت کی دنیا کا کسی کو ہوش نہیں۔ کوئی نہیں جو موت کو اس طرح دیکھ رہا ہو جس طرح دن کا ایک مسافر آنے والی شام کو دیکھتا ہے۔ اور ایسے لوگ تو معدوم کے درجے میں ہیں جو موت کے دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہوں۔ ہر آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے جیسے موت بھی دوسروں کے لئے ہے اور جہنم بھی دوسروں کے لئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader