پھر بھی ان کے بستر کانٹوں کے بستر نہیں بنے
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر بھی ان کے بستر کانٹوں کے بستر نہیں بنے مشہور پلے بیک سنگر مکیش چندر ماتھر (1923-1906) امریکہ کے ایک سفر میں تھے کہ اچانک انتقال کرگئے۔ ان کے حالات جو اخباروں میں آئے ہیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ وہ اردو زبان بہت اچھی جانتے تھے۔ ابتداً وہ ہندی سے ناواقف تھے۔ بعد کو اپنے پیشے کی ضرورت کے تحت سخت محنت کرکے ہندی زبان سیکھی۔ کیونکہ انھوں نے اپنی زندگی میں جو دس ہزار گانے ریکارڈ کرائے ہیں، ان میں سے ایک تلسی داس کی رامائن بھی ہے جس کو انھوں نے تین سال میں مکمل کیا تھا۔ ۱۹۴۷ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو برادران وطن میں اس طرح کے بے شمار لوگ تھے جنھوں نے اپنے اسکولوں میں اردو پڑھی تھی۔ پنجابیوں کا سیلاب یہاں پہنچا تو اس طرح کے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ آزادی کے انقلاب کے بعد تقریباً چوتھائی صدی تک اس ملک کی عام زبان اردو ہی تھی۔ ہم نہایت آسانی کے ساتھ اردو کے ذریعے ان سب لوگوں تک خدا کا وہ پیغام پہنچا سکتے تھے جس کے پہنچانے کی لازمی ذمہ داری ہمارے سپرد کی گئی ہے۔ اب یہ لوگ اٹھتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ دوسری نسل لے رہی ہے۔ دائی اور ماء کو کے درمیان مسانی بعد بڑھتا جا رہا ہے، جو کام پہلے ہم اپنی مادری زبان میں کرسکتے تھے، اس کے لئے اب ہم کو دوسری زبانیں سیکھنی ہیں اور ان کے اندر مہارت پیدا کرنا ہے۔ ایک کام جو پہلے آسان تھا، مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے کہ اس کے باوجود لوگ راتوں کو اطمینان کی نیند سوتے ہیں، ان کے بستر ان کے لئے کانٹوں کے بستر نہیں بنے۔ شاید انھیں یاد نہیں رہا کہ ان کو مرنا ہے اور مرنے کے بعد خدا کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ جب خندا بو پوچھے گا کہ تم نے ہمارا پیغام ہمارے بندوں تک کیوں نہ پہنچایا تو ہم کیا جواب دیں گے۔ اور اگر ہم کو ”خدا کی گواہی چھپانے کا مجرم قرار دے دیا جائے جس کے مجرم یہودی قرار دیئے گئے تھے تو ہمارے پاس اس سے بچنے کی کیا سبیل ہوگی۔ کائنات اپنی لامحدود وسعتوں اور امکانات کے ساتھ ہر شخص کو موقع دے رہی ہے کہ وہ جتنا چاہے آگے بڑھتا چلا جائے۔ مگر کوئی شخص اپنا مقصد غلط طریقے سے حاصل کرنا چاہے تو ساری کائنات اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ غلط کام کو یہ دنیا اسی طرح نگل دینی ہے جیسے ایک نفیس ذوق کا آدمی غلط خوراک کو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader