زندگی کے ابدی مسائل کے لیے اٹھے نہ کہ وقتی مسائل کے لیے
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کے ابدی مسائل کے لیے اٹھے نہ کہ وقتی مسائل کے لیے گھر کے اندر کوئی سانپ دکھائی دے جائے تو اچانک تمام چھوٹے بڑے اس کے خلاف ڈنڈاے کر کھڑے ہو جاتے ہیں، جبکہ خاموش تعمیری کام کے لیے یی پھیل ان میں پیدا نہیں ہوتی۔ ایسا ہی کچھ حال موجودہ زمانہ میں اسلامی تحریکوں کا رہا ہے۔ یہ تحریکیں کسی مثبت اسلامی فکر کی بنیاد پر نہیں اٹھیں بلکہ محض خارجی حالات کے اثر سے پیدا ہوتی ہیں۔______ مغربی قوموں کی یلغار، اسرائیل کی جارحیت، فرقہ وارانہ فسادات، اقتصادی اور سیاسی نقصانات وغیرہ، بس اسی قسم کی چیزیں تھیں جن کو دیکھ کر لوگ ان کے خلاف ٹوٹ پڑے اور اس کا نام انھوں نے اسلامی تحریک رکھ دیا۔ اگرچہ ان تحریکوں میں بہت سے اختلافات بھی نظر آتے ہیں۔ کوئی متشددانہ روپ میں دکھائی دے رہا ہے کوئی فلسفیانہ روپ میں۔ کوئی قرآن اور اسلام کا نعرہ بلند کر رہا ہے، کوئی قوم اور ملک کا، کوئی اقدام پر زور دے رہا ہے کوئی تحفظ پر۔ مگر ایک چیز سب میں مشترک ہے : ان کے اندر جس چیز نے حرکت و حرارت پیدا کی، وہ بیرونی دنیا کے اتفاقی حالات تھے نہ کہ اسلام کا ابدی پیغام۔ اسلام کی نظر میں انسان کا ابدی مسئلہ صرف ایک ہے اور مسلمان ہمیشہ اسی کے لیے اٹھتا ہے۔ وہ ہے آخرت کا مسئلہ۔ انسان کو اس کے خالق نے درختوں اور جانوروں کی مانند نہیں بنایا، بلکہ ایک ذمہ دار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ دنیا کی زندگی ایک امتحان ہے ، آدمی جب مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اپنے کارنامہ زندگی کا حساب دینے کے لئے مالک کائنات کے یہاں پہنچا دیا جاتا ہے ، اس کے بعد اس کی ابدی زندگی شروع ہوتی ہے جو یا تو جنت ہے یا جہنم ۔ اسلامی تحریک اسی سنگین مسئلہ سے انسانوں کو آگاہ کرنے کے لئے اٹھتی ہے مسلمان اپنا فکر دنیوی ہنگاموں کے اثر سے نہیں بناتا بلکہ زندگی کی ابدی حقیقتوں کی روشنی میں بناتا ہے مسلمان خارجی مصائب پر صبر کرتا ہے تا کہ اصل مشن سے اس کی توجہ ہٹنے نہ پائے ، وہ ہر حال میں اسی ایک کام پر اپنی طاقتوں کو خرچ کرتا ہے ۔ کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ مرد و سر اور دروازہ اسی ایک عمل سے اس کے لئے کھلا ہے۔ وہ زندگی کے ابدی مسائل کے لئے عمل کرتا ہے نہ کہ وقتی مسائل کے لئے ۔ جب ابدی زندگی کے سنگین تر مسائل سامنے کھڑے ہوں تو وقتی مسائل میں اپنی قوتوں کو صرف کرنا کسی نادان ہی کا کام ہو سکتا ہے امت مسلمہ کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو آخرت سے باخبر کرے۔ اگر چہ ان سے دنیوی مسائل کے لئے لڑائی چھیڑ دے تو وہ فضا ہی ختم ہو جاتی ہے جس میں انھیں اخروی مسائل کی طرف متوجہ کیا جا سکے۔ سیاسی اور معاشی جھگڑوں کے ساتھ جو دعوتی کام کیا جائے وہ مسخرہ پن ہے نہ کہ دعوت ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader