Al-Risala · December 1976 · page 36

یہ کام نہیں، کام کے مواقع کو برباد کرنا ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۶

جدید مسئلہ کیا ہے ؟

انسانی تاریخ ک دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ـــ دور سائنس سے پہلے، اور دور سائنس کے بعد۔ وہ چیز جس کو دورِ جدید کہتے ہیں، وہ حقیقتاً دور سائنس کا دوسرا نام ہے۔ یہ دور عموماً طور پر سترھویں صدی میں شروع ہوا اور دوسری جنگِ عظیم (۱۹۳۹-۴۵ء) تک اپنے آخری عروج پر پہنچ گیا۔ انسان خارجی طور پر جو عمل کرتا ہے، اس کے لئے اس کے پاس دو قدرتی ذریعے ہیں : حواس اور طاقت۔ حواس کے ذریعے وہ اشیاء کا علم حاصل کرتا ہے، اور طاقت کے ذریعے اپنے ارادہ کو ان کے اوپر نافذ کر کے ان کو اپنے لئے کارآمد بناتا ہے۔ یہ دونوں عمل قدیم ترین زمانے سے جاری ہیں۔ پچھلے زمانہ میں اشیاء کو جاننے کے لئے اس کے پاس صرف وہ قدرتی عطیات تھے جن کو حواسِ خمسہ کہا جاتا ہے اور خارجی دنیا میں تصرف کرنے کے لئے اس کے پاس اپنے ہاتھ پاؤں تھے یا حیوانی طاقت، مثلاً اونٹ، گھوڑے، ہاتھی، بیل وغیرہ۔ تاہم ان ابتدائی قدرتی عطیات کے علاوہ زمین میں بے شمار ایسی چیزیں تھیں جو اس بات کو ممکن بناتی تھیں کہ ان کو حاصل کر کے آدمی اپنے حواس اور طاقت دونوں کی مقدار کو بڑھا سکے۔

اضافہ کا یہ عمل نامعلوم زمانہ سے جاری تھا۔ مردہ تہذیبوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے دوروں میں بھی انسان اس میدان میں بڑی بڑی ترقیات حاصل کرتا رہا ہے۔ تاہم ماضی کی تمام ترقیاں ابتدائی فطری حدود کے اندر ہوتی تھیں۔ مثلاً پتھر کی جگہ لوہے کو کام میں لانا یا پہیہ دار گاڑی بنا کر جانوروں کو سواری کے لئے استعمال کرنا۔ موجودہ دور کو یہ اولیت حاصل ہے کہ اس نے معلوم تاریخ میں پہلی بار طاقت کو ”مشین“ کی حیثیت دے دی اور فطری حواس کے لئے ایسے میکانکی اور آلاتی معاون دریافت کرلیے جو ہمارے دیکھنے اور تجربہ کرنے کی صلاحیت کو لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ بڑھا سکتے تھے۔

اس دریافت کا براہِ راست فائدہ تو صرف یہ تھا کہ انسانی تمدن کے لئے مادی ترقی کا ایک نیا و وسیع تر دروازہ کھل گیا۔ انسان کے لئے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ اپنے سفر کی رفتار کو بے اندازہ مقدار میں بڑھا سکے۔ زمین کے جن وسائل تک روایتی ذرائع سے اس کی دسترس نہیں ہو سکتی تھی، ان کو حاصل کر کے اپنی بستیوں کو ناقابل قیاس حد تک زرین کرنے۔ تخریب و تعمیر کے لئے، مقدار اور نوعیت دونوں اعتبار سے، اتنے زیادہ سامان فراہم کرلے جس کا خواب بھی پچھلے انسانوں نے نہیں دیکھا تھا۔

تاہم انسانی تاریخ کا اتنا بڑا واقعہ بالواسطہ اثرات پیدا کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس نے دھیرے دھیرے انسانی افکار پر بھی اپنے اثرات ڈالنے شروع کئے یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخر تک یہ عالم ہو گیا کہ سارے علوم انسانی اس سے متاثر ہو کر رہ گئے ۔ مذہب، اخلاق، فلسفہ، قانون، معاشیات، سیاسیات، غرض

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page