Al-Risala · December 1976 · page 35

یہ کام نہیں، کام کے مواقع کو برباد کرنا ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۵

یہ کام نہیں، کام کے مواقع کو برباد کرنا ہے

موجودہ دور کے مسلم مصلحین سے ایک بڑی اجتہادی غلطی یہ ہوئی ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ جن ملکوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جہاں ان کا سیاسی اقتدار قائم ہے، وہاں وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ "قانون اسلامی کے نفاذ کے مطالبے سے اپنی مہم کا آغاز کرسکیں یہ ایک اندوہناک قسم کا غلط اندازہ تھا جس سے عملاً اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا کہ وہ اپنے ملکوں میں حزب مخالف کا پارٹ ادا کر کے ختم ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم اقلیت کے ملکوں میں جو مسئلہ مقامی غیر مسلم اکثریت کی طرف سے ہے، وہی مسلم اکثریت کے ممالک میں عالمی حالات کی جانب سے ہے۔ مزید یہ کہ مسلم ملکوں کے تمام حکومتی شعبوں پر چونکہ وہی لوگ قابض ہیں جن کی تعلیم مغربی طرز کے اداروں میں ہوئی ہے کیونکہ وہی جدید دور کی ایک ریاست چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لئے مسلم ملکوں کا برسر اقتدار طبقہ بھی، اسلام سے طبعی ہمدردی رکھنے کے باوجود، مزاجاً، اس حد تک جانے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے یہاں خالص مذہبی ریاست کے قیام کا اعلان کر دے۔ مصر، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ ان ملکوں میں موجودہ صدی کے وسط میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں، وہ اپنی ساری مقبولیت اور ترقی کے باوجود، اسلامی قانون کے نفاذ میں تو کامیاب نہیں ہوئیں، البتہ مسلم ملک ہونے کی وجہ سے وہاں ان کو اسلامی دعوت کے کام کو مؤثر طور پر چلانے کے لئے جو خصوصی مواقع حاصل تھے وہ بھی اختلافی اور احتجاجی سیاست کے نتیجہ میں برباد ہوگئے۔ قاضی ابویوسف (۹۸۷ ) اور شیخ احمد سرہندی (۲۵ ۱۵ - ۴۷ ۱۶) نے بالترتیب عباسی خلیفہ ہارون الرشید اور مغل شہنشاہ جہانگیر سے مل کر جو اسلامی خدمات انجام دیں، اگر موجودہ زمانہ کے مصلحین نے بھی اس ڈھنگ پر کام کیا ہوتا تو اب تک اظہار دین اور غلبہ اسلام کا وہ کام انجام پاچکا ہوتا جس کے لئے ابھی ہم صرف غور و فکر کر رہے ہیں ۔ چپکے سے اس کے کھانے میں زہر ڈال دیا۔ ابن الرومی لطیفہ زہر آلود کھانے کے کچھ لقمے کھا چکا تو اس کو احساس ابن الرومی (۲۸۳ - ۲۲۱ھ) ایک شاعر تھا وہ لوگوں کی ہجو کیا کرتا تھا۔ خلیفہ معتضد باللہ کے وزیر میں جو گفتگو ہوئی وہ یہ ہے ۔ ابوالحسین قاسم بن عبداللہ کو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا تھا وزیر : ابن الرومی! کہاں جارہے ہو۔ کہ وہ اس کی ہجو کر کے اس کو عوام میں ذلیل نہ کرے۔ یہ وزیر بڑا بے رحم تھا۔ اس نے اس مسئلے کا حل یہ سوچا کہ وزیر : دیکھو وہاں پہنچ کر میرے والد کو میرا کہ اس کے وجود ہی کو ختم کر دیا جائے۔ ایک بار جب ابن الرومی وزیر کے دسترخوان پر کھانا کھا رہا تھا تو وزیر نے ابن الرومی: لیکن جہنم سے میرا گزر نہیں ہوگا۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page