Al-Risala · December 1976 · page 37

یہ کام نہیں، کام کے مواقع کو برباد کرنا ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۷

کوئی ذہنی موضوع ایسا نہ تھا جس نے گہرے طور پر اس سے اثر قبول نہ کیا ہو۔ فطری طور پر یا بیشتر یک طرفہ فکری علوم سائنس کے اوپر اپنی چھاپ نہ ڈال سکے، وہ صرف سائنس کے عمومی غلبہ کا شکار ہو کر رہ گئے۔ سائنس اپنی ابتدائی شکل میں فکری علوم کی موافق تھی نہ مخالف۔ انسان اگر نظام شمسی کی حرکت کا نقشہ معلوم کرلے ، یا آٹومیٹک مشین کے ذریعے کام لینے لگے تو اس میں اخلاق یا انسانی اقدار سے ٹکراؤ کا پہلو کیا ہے ۔ تاہم سائنس کے ظہور کے ساتھ چند باتیں ایسی پیش آئیں جنھوں نے سائنس کو فکری علوم، خاص طور پر مذہب و اخلاق سے ، متصادم کر دیا۔

۱۔ مذہب کے ماننے والوں نے سائنس کے ظہور سے پہلے روایتی معلومات کے تحت اپنا ایک فکری نظام بنا رکھا تھا۔ سائنس کی دریافتیں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ ان میں سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو سائنس کی معلوم کردہ دنیا سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اب چونکہ سائنس زیادہ ترقی یافتہ ذرائع معلومات کے حوالے سے کلام کر رہی تھی ، قدرتی طور پر سمجھا گیا کہ وہی بات صحیح ہے جو سائنس کی طرف سے آئی ہے۔ اس واقعہ نے مذہب کو لوگوں کی نظر میں بے اعتبار بنا دیا۔ اس میں مزید شدت اس واقعہ سے پیدا ہوئی کہ اہل مذہب، خصوصاً عیسائی حضرات نے، اپنے روایتی عقائد کے تحفظ کے لئے سائنس کے خلاف نہایت سخت رویہ اختیار کیا۔ ان کے اس رد عمل نے لوگوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ مذہب اور سائنس کا ٹکراؤ حقیقی ہے ، اور جب دلائل کی منطق صریح طور پر سائنس کی طرف ہے تو یقیناً مذہب ایک بے اصل چیز ہے۔ اس کی حقیقت تو ہم پرستی کے سوا اور کچھ نہیں۔

۲۔ دوسری غلطی سائنس دانوں یا کم از کم سائنس کے حوالے سے بولنے والوں نے کی۔ عالم طبیعیات میں اپنی فتوحات سے وہ اس غلط فہمی میں پڑ گئے کہ وہ اس حیثیت میں ہیں کہ وسیع تر فلسفیانہ مسائل کے بارے میں رائے زنی کر سکیں۔ حالاں کہ ، جیسا کہ بعد کو خود سائنس کی مزید دریافتوں سے معلوم ہوا ، عالم طبیعی کے بارے میں ان کے مشاہدات، فلسفہ یا عالم افکار کے نازک مسائل کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لئے انتہائی ناکافی تھے۔ یہاں ہم اپنے مدعا کی وضاحت کے لئے دونوں قسموں کی ایک ایک مثال بیان کریں گے۔

زمین اور سورج کی گردش کے بارے میں قدیم یونان میں دو نظریئے پیش کئے گئے تھے۔ ایک ارسطو کا نظریہ ، جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین قائم ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ دوسرا ار سٹارکس (Aristarchus) کا نظریہ جس کے مطابق زمین سورج کے گرد گھوم رہی تھی۔

عیسائیوں کے درمیان ارسطو کا نظریہ بہت مقبول ہوا ۔ کیونکہ مرکزیت زمین کے نظریہ (Geocentric Theory) میں زمین کو بنیادی اہمیت حاصل ہو رہی تھی اور چونکہ انھوں نے حضرت مسیح کو خدائی کا مقام دے رکھا تھا۔ اس لئے ان کا خیال یہ ہو گیا کہ وہی کره نظام شمسی کا مرکز بن سکتا ہے جہاں خدا وندمسیح پیدا ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ مرکزیت زمین کے نظریہ کو انھوں نے اپنے علم کلام میں داخل کر لیا۔ کو پر نیکس (۱۴۷۳-۱۵۴۳) نے جب مرکزیت آفتاب کا نظریہ (Heliocentric Theory) پیش کیا تو یورپ میں عیسائی پیشواؤں کو اقتدار حاصل تھا۔ انھوں نے اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page