Al-Risala · December 1976 · page 38

یہ کام نہیں، کام کے مواقع کو برباد کرنا ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۸

عقیدہ کے تحفظ کے لئے کوپر نیکس کے خلاف عدالتی سزا کا حکم جاری کر دیا۔ خداوند کی جنم بھومی کو تالج (Satellite) قرار دینا ایک ایسا جرم تھا جو کسی طرح معاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔

مگر یہ مسئلہ روایتی عیسائیت کا تھا نہ کہ حقیقی معنوں میں خدائی مذہب کا۔ چنانچہ مسلمان جو اس اعتقادی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے کہ پیغمبر کو خدا سمجھتے ہیں، انھوں نے مرکزیت آفتاب کے نظریہ کو زیادہ معقول پا کر اسے قبول کر لیا۔ ان کے یہاں یہ سوال نہیں اٹھا کہ شمسی مرکزیت کا نظریہ مذہبی تعلیمات سے ٹکراتا ہے:

”ارسطو کے احترام کے باوجود عرب کائنات کے بارے میں ارسطو کے نظریہ پر تنقید کرنے میں نہیں ہچکچائے، جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین آسمانی اجرام کا مرکز ہے اور تمام اجرام اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اس کے برعکس عربوں نے اس امکان کو تسلیم کیا کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ “ Edward McNall Burns Western Civilization, P. 264 سائنس دانوں کی غلطی کی ایک مثال اصول تعلیل (Causation) میں ملتی ہے۔ اشیاء کے مشاہدہ سے جب یہ حقیقت ان کے سامنے آئی کہ واقعات کے پیچھے ایک سبب کارفرما ہوتا ہے، مثال کے طور پر اجرام سماوی کی گردش کے پیچھے جذب و کشش کا قانون یا قوس قزح کے پیچھے بارش کے قطرات سے سورج کی شعاعوں کا گزرنا، تو انھوں نے سمجھ لیا کہ ان کو اس سوال کا جواب مل گیا ہے جس کے لئے فلسفہ ہزاروں سال سے ”علت کائنات“ کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ حالاں کہ علت کائنات کا مسئلہ نہایت گہرے سوالات سے جڑا ہوا تھا اور سائنس دانوں کا طبیعی مشاہدہ کسی بھی درجہ میں اس قابل نہ تھا کہ اُس کو اِس نازک اور گہرے سوال کے جواب کے لئے استعمال کیا جائے۔ تاہم انھوں نے استعمال کیا۔ حتیٰ کہ اس کو خالق کے انکار کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ لیا۔ مگر بیسویں صدی کے آغاز میں خود سائنس نے ایسے حقائق دریافت کئے جس کے بعد الحاد کی یہ بنیاد ہمیشہ کے لئے منہدم ہو گئی یہ ہے مختصر طور پر وہ فکری پس منظر جس میں جدید تاریخ کا وہ واقعہ وجود میں آیا جس کو مذہب اور سائنس کا تصادم کہا جاتا ہے۔

سائنس نے جدید دور کے ہر پہلو پر اتنی شدت اور وسعت کے ساتھ اثر ڈالا کہ علم کے تمام شعبوں اور فکر کے تمام گوشوں پر اس کی چھاپ پڑ گئی۔ جس قدیم روایتی ڈھانچہ میں لوگوں نے اسلام کو پایا تھا، وہ بالکل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا اور نیا فکری ڈھانچہ جو سائنس کے زیر اثر بنا، اس کے تحت اسلامی افکار کی تشکیل نو نہ کی جاسکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نسل کی نسل تذبذب اور انتشار ذہنی کا شکار ہو کر رہ گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دور میں ایسے لوگ معدوم ہو گئے جو جو اسلام کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہوں۔ بلا شبہ ایسے لوگ تھے اور کروروں کی تعداد میں تھے۔ مگر انھوں نے اسلام کو روایتی سطح پر پایا تھا، شعور کی سطح پر نہیں پایا تھا۔ اس کی کا نتیجہ صرف یہ نہیں ہوا کہ لوگ ایمان کی اس اعلیٰ فکری سطح کو نہ پہنچ سکے جہاں آدمی گرد و پیش کے تمام واقعات کو اس طرح اپنے شعور حق کا جزو بنا لیتا ہے کہ ہر طرف اس کو خدا کا جلوہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا اجتماعی نقصان یہ ہوا کہ اس دور میں مسلمانوں کے جو مذہبی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page