Al-Risala · December 1976 · page 39

یہ کام نہیں، کام کے مواقع کو برباد کرنا ہے

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۹

رہتا اٹھے، وہ خود بھی چونکہ ایسے تھے جنھوں نے فکرِ حاضر میں اپنے دین کو نہیں پایا تھا، بلکہ ماضی کے روایتی ڈھانچے میں پایا تھا۔ اس لئے وہ دورِ جدید کے مطابق اسلامی حجم کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ انتہائی اخلاص مگر انتہائی نادانی کے ساتھ وہ مسلمانوں کو ایسی راہوں میں دوڑاتے رہے جن کی ساری قیمت ماضی کے نقشہ میں تھی، عہدِ حاضر کے نقشہ میں وہ اپنی قیمت کھو چکے تھے۔ وہ تاریخِ ماضی میں حال کا ڈراما کھیلتے رہے۔ اس کا نتیجہ صرف ایک درد ناک شکست تھا۔ چنانچہ ہر محاذ پر شکست ہوئی اور شکست نے بالآخر مایوسی اور جھنجلا ہٹ اور بے حوصلگی کا شدید تر تحفہ دے کر پوری قوم کی قوم کو موت کے کنارے پہنچا دیا۔

شعوری سطح پر دین کو پانے کا مطلب وقت کے افکار کے مقابلے میں دین کو پانا ہے۔ معرکہ بدر (۶۲۴ء) کے مجاہدین نے (اَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (انفال۔ ۶۰) کی تفسیر "تلوار" میں پائی تھی۔ مگر شامی (۱۸۵ء) کے مسلمان بھی اگر آیت کی تفسیر یہی پائیں تو کہا جائے گا کہ انھوں نے قرآن کو عہدِ حاضر کی نسبت سے نہیں پایا۔ آج اس آیت کی تفسیر کو تلوار کی شکل میں پانا، قرآن کو گزرے ہوئے ماضی کے نقشہ میں پانا ہے۔ جب کہ تجدید کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو وقت کے نقشہ میں پایا جائے ۔ خیالات کے اظہار کے لئے شعر و خطابت کی زبان استعمال کرنا، احیائے اسلام کی تحریکوں کا سیاسی رخ اختیار کرنا، وعظ خوانی اور فتوے کو اصلاحِ امت کے لئے کافی سمجھنا، سب اسی کے مظاہر ہیں۔ دورِ جدید میں ہمارے جو مصلحین اٹھے انھوں نے اگر فکرِ حاضر میں اپنے اسلامی شعور کو پایا ہوتا تو جانتے کہ آج کے وہ کون سے افکار و عوامل ہیں جو اجتماعات میں فیصلہ کن بن گئے ہیں اور ان کے مقابلے میں اجزائے اسلام کی منصوبہ بندی کس طرح ہونی چاہئے۔ ان کے پاس صرف روایتی عقیدہ کا سرمایہ تھا۔ بس اسی کو لئے ہوئے وہ وقت کے سمندر میں کو ڈبے ہدلے ہوئے زمانے میں اس قسم کا جوشِ ایمان انھیں کہیں نہیں پہنچا سکتا تھا اور نہ اس نے کہیں پہنچایا۔ انیسویں صدی میں یہ بات پوری طرح نمایاں ہو چکی تھی کہ مذہب کا روایتی ڈھانچہ اس جدید ڈھانچہ میں اپنی جگہ نہیں پا رہا ہے جو سائنس کے زیرِ اثر بنا ہے۔ اس وقت ضرورت تھی کہ گہرائی کے ساتھ صورتِ حال کا جائزہ لے کر نیا فکری ڈھانچہ تیار کیا جائے جس میں اسلام دوبارہ اپنی جگہ پا سکے۔ اگر بروقت یہ کام ہو جاتا تو سائنس یا دورِ جدید نہ صرف یہ کہ مذہب کے حریف نہ بنتے بلکہ اس کو تقویت دے کر اس کو نئی زندگی عطا کرنے والے بن جاتے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ عیسائیت نے سیاسی اقتدار سے محرومی کے بعد ماڈرنزم کی شکل میں سائنس سے سمجھوتہ کر لیا۔ مسلمان دینِ حق کے حامل ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں تھے کہ تاریخِ جدید کے اس اہم کردار کو ادا کر سکیں، جس طرح انھوں نے نویں صدی عیسوی میں بغداد اور قرطبہ میں وقت کی سائنس اور فلسفہ کے مقابلہ میں اسی قسم کے کردار کو ادا کیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وہ وقت تھا جب کہ مسلمان قومیں زوال کا شکار ہو چکی تھیں۔ ان کے اندر نہ حوصلہ تھا نہ فکری بلندی۔ مزید یہ کہ جدید اقتصادیات میں اپنی محرومی کی وجہ سے وہ اس قابل نہ رہے تھے کہ اس قسم کے کسی مؤثر کام کی قیمت ادا کر سکیں۔ اپنی پس ماندگی کی وجہ سے مسلمان اس کا ثبوت بھی نہ دے سکے کہ وہ وقت کے اس مسئلہ کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ کجا کہ ان سے یہ امید کی جائے کہ وہ گہرائی کے ساتھ اس کا جائزہ لیتے اور زندگی کے جدید نقشہ میں مذہب کو اس کا مقام عطا کرتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page