یہ کام نہیں، کام کے مواقع کو برباد کرنا ہے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۰
موجودہ حالات نے ہمارے لئے جو مسائل پیدا کئے ہیں، وہ دو قسم کے ہیں: نظری اور عملی۔
پہلے جزو کے سلسلہ میں اہم ترین کام یہ ہیں کہ اسلام کے عقائد و احکام کو جدید استدلالی انداز میں مرتب کیا جائے تا کہ وہ لوگوں کو ”آج کی چیز“ معلوم ہونے لگیں۔ نہ یہ کہ پڑھنے والا یہ سمجھے کہ وہ اس دور کی چیز ہے جب کہ انسان قبائلی دور میں سانس لیتا تھا۔
جدید انداز سے مراد یہ ہے کہ اسلوب تحریر اور مواد استدلال دونوں اعتبار سے وہ جدید علمی معیار کے مطابق ہو۔ موجودہ زمانے میں اسلوب تحریر مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ قدیم روایتی اسلوب میں خطیبا نہ انداز غالب ہوتا تھا۔ اب سائنسی اور تجزیاتی انداز کو پسند کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ عبارت کے درمیان اشعار نقل کر دینا، زور الفاظ کا مظاہرہ کرنا یا مسجع فقرے لکھنا، نفس مضمون کی قیمت میں اضافہ کرتا ہے۔ اب یہ ساری چیزیں معیوب قرار پاچکی ہیں۔ قدیم تصور ادب میں تیرونشتر قسم کے جملے، مخاطب کے اوپر تیز تیز ریمارک، جذباتی قسم کی عبارتیں انتہائی پسندیدہ ہوتی تھیں ۔ مگر اب یہ تمام چیزیں علمی وقار کے خلاف سمجھی جاتی ہیں۔ قدیم ذوق کے مطابق مبالغہ آمیز الفاظ، رنگین ترکیبیں اور استعارے اور تشبیہات ادب کا کمال سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب کوئی تعلیم یافتہ آدمی اس قسم کے مضمون کو پڑھنا بھی پسند نہیں کرتا۔
یہی حال مواد کا ہے۔ پہلے زمانے میں یہ بات بھی اس چیز کو ثابت کرنے کے لئے کافی تھی کہ آدمی اپنے نقطہ نظر کے حق میں ایک مثال پیش کر دے یا ایک حکایت بیان کر دے۔ مگر اب اس کو غیر معتبر سمجھا جاتا ہے کہ کوئی شخص کسی قسم کی چیزوں سے اپنی بات ثابت کرنے لگے۔ پہلے زمانے میں کسی حوالے کے لئے عدادی قطعییت یا واقعاتی تعین ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر جدید ذوق کے لئے وہ کلام بے معنی ہے جس میں تعیناتی زبان استعمال نہ کی گئی ہو۔ قدیم طریقے میں استدلال کی بنیاد تمام تر قیاسی منطق ہوا کرتی تھی۔ مگر اب قیاسی منطق بے قیمت ہوگئی ہے۔ اب تاریخی، مشاہداتی اور تجزیاتی انداز میں بات کو ثابت کرنے کا نام ثابت کرتا ہے۔ قدیم انداز میں آدمی مناظر اور مبلغ بن کر ایک وکیل کی طرح بالکل برہنہ انداز میں اپنے نقطہ نظر کی طرف سے بولتا تھا۔ اب غیر شخصی جائزے کو معیاری انداز سمجھا جاتا ہے۔
پچھلے سو برس میں ہمارے یہاں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے بہت سی کتابیں بجائے خود قیمتی بھی ہیں۔ مگر دورِ جدید کے اعتبار سے ان کی افادیت محض جزوی ہے۔ کیونکہ وہ بیشتر خطیبا نہ نثر کا نمونہ ہیں۔ سائنسی طرزِ استدلال پر تحریری کام ابھی تک ہمارے یہاں تقریباً صفر کے درجے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اسلام کو سمجھنے کے لئے بھی مستشرقین کی کتابیں پڑھتے ہیں جو خواہ ہمارے نزدیک غلط ہوں، تاہم وہ اپنے انداز اور اسلوب کے اعتبار سے جدید معیار کی حامل ہوتی ہیں۔ مسلم مصنفین کی لکھی ہوئی کتابیں ان کو اپیل نہیں کرتیں۔ عملی مسائل کی فہرست، جن کے حل کے لئے وقت کے نظام اجتماعی میں تغیر ضروری ہے، بہت طویل ہے۔ وقت کا اجتماعی نظام، قومی اور بین الاقوامیدونوں اعتبار سے، سراسر غیر خدائی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کے ڈھانچے میں رہتے پھم
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues