Al-Risala · December 1976 · page 41

کیا آپ الرسالہ کے خریدار ہیں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۱

ہوئے دین کے اجتماعی قوانین پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ مگر یہاں اسلام نے جو راہِ عمل تجویز کی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو ایک انقلاب پسند لیڈر عام طور پر اختیار کرتا ہے۔

اس کا حل موجودہ زمانے کی اسلامی جماعتوں نے یہ نکالا ہے کہ نظامِ حاضر سے ٹکرا جائیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ اجتماعی ایمان اگر ہمیں حاصل نہیں تو اس کے حصول کی خاطر موت تو ہمارے بس میں ہے۔ پھر کیوں نہ ہم ”بے ایمان“، ”زندگی کے مقابلہ میں“ ایمان دار،، موت کو ترجیح دیں۔

یہ خطرناک غلط فہمی اس لئے پیدا ہوئی کہ اس دور میں اٹھنے والے مصلحینِ امت اس نکتہ کو نہ سمجھ سکے کہ اجتماعی اسلام کے لئے جد و جہد کا مقام آغاز اجتماعی اسلام نہیں، دعوت ہے۔ ہمارے کام کا آغاز اسلامی نظام کے قیام کے لئے براہِ راست اقدام سے نہیں ہوگا بلکہ اساساتِ اسلام کی طرف دعوت سے ہوگا۔ مکہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلامی جد و جہد کا حکم دیا گیا تو یہ نہیں کہا گیا کہ مکہ کی پارلیمنٹ (دار الندوہ) میں نمائندگی حاصل کرنے کا مطالبہ کرو یا کعبہ کی تولیت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو۔ بلکہ توحید اور مواساة بنی آدم سے متعلق سادہ تعلیمات بھیجی گئیں اور حکم ہوا کہ لوگوں میں ان کی تبلیغ کرو۔ اس سے آگے کی چیزیں، جن کے حصول کے لئے اجتماعی انقلاب ضروری ہے، ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ انہیں چھیڑنے کے بجائے ان کو برداشت کرو اور اس وقت کا انتظار کرو جب اللہ حالات میں ایسا تغیر فرمائے جب کہ بقیہ مسائل کے حل کی راہ نکل سکے۔ (یونس ۔ آخر) اس معاملہ میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ ممکن دائرہ میں دین پر عمل کرتے ہوئے دعوتی جد و جہد شروع کر دو، اور بقیہ تمام امور کو متوقع نصرتِ الہیٰ کے خانہ میں ڈال دو۔ یہی مطلب ہے حکم دعوت کے بعد یہ کہنے کا کہ وَلِىَ تَصْبِرُ (مدثر) اساساتِ دین کی طرف پرامن دعوت اور غیر اسلامی تسلط کی وجہ سے جو مشکلات و مسائل پیش آئیں، ان پر صبر، یہی تمام انبیاء کا طریقہ رہا ہے اور یہی آج بھی ان لوگوں کا طریقہ ہونا چاہئے جو مخالف ماحول میں اسلام کے احیاء کے لئے اٹھیں۔

کیا آپ الرسالہ کے خریدار ہیں

اگر نہیں تو فوراً سالانہ خریداری کی رقم بذریعہ منی آرڈر روانہ فرمائیے، تاکہ آپ دینِ حق کو زندہ کرنے کی اس تاریخی مہم میں شریک ہو سکیں جو اس ماہنامہ کے ذریعہ شروع کی گئی ہے زر تعاون سالانه : عمومی ۲۴ روپے خصوصی کم از کم ایک سو ایک روپیہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page