Al-Risala · December 1976 · page 42

کیا آپ الرسالہ کے خریدار ہیں

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۲

اس کا محرک دنیا داری ہے نہ کہ دین داری »ملوی صاحب« ایک صاحب نے تیز و تند لہجے میں کہا » آپ لوگ اپنی دینی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں بالکل ناکام ثابت ہوئے ہیں« »کیوں« » آپ لوگ اب تک عوام کو یہ نہ بتا سکے کہ نس بندی جائز ہے یا ناجائز۔ کوئی مولوی کہتا ہے جائز ہے، کوئی کہتا ہے ناجائز ہے« آج کل اکثر اس قسم کی باتیں سننے میں آتی ہیں۔ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو زندگی کے معاملات میں جائز اور ناجائز جاننے کی بہت زیادہ فکر ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس معاملہ میں انھیں اسلام کا ٹھیک ٹھیک حکم معلوم ہو جائے تاکہ اس پر وہ صدق دل کے ساتھ عمل شروع کر دیں۔ واقعات بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بے شمار امور میں علماء نے متفقہ طور پر صاف صاف فتوے دیے ہیں۔ مثلاً یہ کہ صاحبِ نصاب کے لئے اپنے مال سے ہر سال زکوٰۃ نکالنا فرض ہے۔ اگر ایک شخص صاحبِ نصاب ہوتے ہوئے زکوٰۃ نہیں نکالتا تو اس کا سارا مال اس کے لئے حرام ہے تاؤقتیکہ وہ اس کی باقاعدہ زکوٰۃ نہ نکالے۔ کیا اس مسئلہ کو بیان کرنے کے بعد سارے مسلمان اپنے اموال سے باقاعدہ زکوٰۃ نکالنے لگے۔ علماء نے بار بار شریعت کا یہ حکم مسلمانوں کو بتایا ہے کہ ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی جان، مال اور آبرو و حرام ہے۔ کیا اس کے بعد ایسا ہوا کہ ہر مسلمان اپنے دوسرے بھائی کی ان چیزوں کو خنزیر کی طرح حرام سمجھ کر اس سے بچنے لگا۔ علماء نے کتنی ہی بار اپنی تقریروں اور تحریروں میں بتایا ہے کہ "استمداد" صرف اللہ کے لئے قناعت شفیق احمد انبالہ والے ، دہلی تکرارِ محبت کٹھن سہی لیکن کہا جاتا ہے کہ مالک دینار، رابعہ بصری کی خدمت میں آئے۔ دیکھا کہ وہ ٹوٹے ہوئے لوٹے سے وضو کر رہی ہیں، پرانی چٹائی کا بستر ہے اور تکیہ کی جگہ اینٹ رکھی ہوئی ہے۔ افسوس کے ساتھ بولے: ”اے رابعہ ! میری ملاقات دولت مندوں سے ہے۔ اگر اجازت ہو تو ان سے کہہ دوں “ رابعہ بصری نے جواب دیا: ”کیا ایک ہی خدا سب کو روزی نہیں دیتا۔ کیا وہ درویشوں کو روزی دینا بھول گیا ہے اور دولت مندوں ہی کی روزی یاد رکھتا ہے؟ “ مالک دینار نے کہا: ”نہیں “ رابعہ بصری نے جواب دیا: ”پھر اس کو یاد دلانے کی کیا ضرورت ہے؟ “

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page