کیا آپ الرسالہ کے خریدار ہیں
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۳
ہے ۔ غیراللہ کو پکارنا یا اس سے مدد چاہنا مطلق حرام ہے۔ کیا اس کے بعد سارے مسلمان غیر اللہ سے استعانت چھوڑ کر صرف اللہ سے امیدوار بن کر اس سے لپٹ گئے ۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ علماء کے کھلے کھلے فتاوی کے باوجو دلوگوں نے شریعت کے علم کی کوئی پروا نہیں کی اور ان کی زندگی کی گاڑی بدستور اپنی ڈگر پر چلتی رہی ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ نس بندی کے معاملے میں لوگ اتنا زیادہ بے تاب ہیں کہ شریعت ان کی رہنمائی کرے۔
اس کی وجہ لوگوں کی دنیا پرستی ہے نہ کہ آخرت پسندی۔ دراصل لوگوں کی صاحب اولاد ہونے کی تڑپ آپس کا لڑائی جھگڑا آسمان سے آئی ہوئی مدد کو دوبارہ لوٹا دیتا ہے اسلام میں اتحاد و اتفاق کو بے حد اہمیت دی گئی ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ مسلم گروہ خدا کی نصرت سے محروم ہو جاتا ہے جس کے افراد آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگیں : حدیث میں ہے: اس معاملہ سے اس کے انہیں اس معاملہ میں اس پر تجسس بنا دیا ہے نہ کہ صاحب شریعت ہونے کی تڑپ نے۔ ایسے معاملات جن میں وہ خود اپنے دنیا پرستانہ ذہن کی وجہ سے پر شوق ہیں، ان میں وہ شریعت کو بھی اپنے ساتھ ایک تائیدی عنصر کی حیثیت سے شامل کر لینا چاہتے ہیں اور جن معاملات کو ان کا دنیا پرستانہ ذہن کوئی اہمیت نہیں دیتا، ان میں انہیں شریعت کا حکم جاننے کی بھی ضرورت نہیں۔
ایک مثال لیجئے، آزادی کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ سرکاری تعلیم گاہوں میں سیکولر تعلیم دی جائے گی، کسی خاص مذہب کی تعلیم و تربیت ممنوع ہوگی۔ یہ کتنا اہم مسئلہ تھا۔ مگر اس کے لئے مسلمانوں میں کوئی خاص بے چینی پیدا نہیں ہوئی۔ کیوں۔ اس لئے کہ اس فیصلہ سے ان کی دنیا پرستانہ زندگی پر کوئی براہ راست زد نہیں پڑتی تھی۔ جس چیز کے بگڑنے کا اندیشہ تھا وہ آخرت تھی نہ کہ دنیا۔ ۔ اور جب دنیا سلامت ہو تو کسی کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔
میں ایک دوسرے کے بارے میں ہے: حدیث یہ ہے کہ لیلۃ القدر کے تعین کا علم صرف اس لئے اٹھا لیا گیا کہ مدینہ میں دو مسلمان باہم لڑ پڑے تھے :
عن عبادۃ بن الصامت قال خرج النبی صلی اللہ علیہ وسلم لیخبرنا بلیلۃ القدر فتلا حی رجلان من المسلمین فقال خرجت لاخبركم بلیلۃ القدر فتلا حي فلان وفلان فر فعت عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز نکلے کہ ہم کو شب قدر کے بارے میں بتادیں کہ وہ کس روز ہے۔ اس وقت دو مسلمان آپس میں (ایک قرض کے بارے میں) لڑپڑے۔ آپ نے فرمایا میں اس لئے نکلا تھا کہ تم کو شب قدر کی خبر دے دوں۔ مگر فلاں اور فلاں آپس میں لڑپڑے۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں " اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لڑائی جھگڑوں کو کس قدر برا سمجھتا ہے، یہاں تک کہ اس کی وجہ سے بڑی بڑی برکتیں اٹھالی جاتی ہیں ۔ "
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues