تعمیر ملت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۴
تعمیر ملت
مصر کے سلطان صلاح الدین (۱۹۳ھ - ۱۱۳) اور ہندوستان کے سلطان ٹیپو (۱۷۹۹ء - ۱۷۵۱) دونوں جوش ایمان اور شجاعت اور جنگی اہلیت کے اعتبار سے یکساں حیثیت کے مالک تھے۔ دونوں کو"مغربی طاقت سے مقابلہ پیش آیا۔ مگر اول الذکر فلسطین کا فاتح بنا جب کہ دوسرے کے حصہ میں صرف یہ آیا کہ حریف سے شکست کھا کر شہید ہو جائے۔ اس فرق کے پیچھے کوئی طلسماتی راز نہیں، ایک سادہ سی حقیقت ہے: سلطان ٹیپو کو اٹھارویں صدی کا زمانہ ملا جب کہ جنگی صنعت میں مغرب نے اجارہ داری حاصل کرلی تھی۔ اس نے روایتی دستی ہتھیاروں کی جگہ بہتر قسم کے دور مار ہتھیار دریافت کر لئے تھے اور سمندری طاقت پر مکمل طور پر اپنا قبضہ قائم کر لیا تھا۔ اس کے برعکس سلطان صلاح الدین کو بارہویں صدی عیسوی میں کام کرنے کا موقع ملا جب کہ مسلمان جنگی صنعت میں کی امامت کر رہے تھے۔ اس زمانے میں شام و مصر اور عراق میں کثرت سے ایسی کارگا ہیں تھیں جہاں اس وقت کی دنیا کے سب سے بہتر آلات حرب تیار ہوتے تھے۔ عباسی دور میں رومی حملوں کی مدافعت اور صلیبی جنگوں کے دور میں یورپی قوموں کی یورشیں روکنے میں ان کا بڑاہاتھ ہے۔ خاص طور پر صلیبی جنگوں کے زمانے میں اس علاقے میں جنگی صنعت کو بڑا فروغ ہوا۔ حتیٰ کہ صلیبی لڑائیوں کے دور میں جب کوئی صلح کا وقفہ ہوتا تو اہل یورپ خاص طور پر ہتھیار خریدنے کے لئے شام و مصر کے بازاروں میں آتے تھے۔ چنانچہ اس زمانے میں مسلم علماء کو فتویٰ دینا پڑا کہ مسیحیوں کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنا حرام ہے، کیونکہ ہم سے خریدے ہوئے ہتھیاروں کو وہ دوبارہ ہمارے ہی خلاف استعمال کریں گے۔
یہی وہ قوت ہے جس کو قرآن میں قوت مرہیہ (انفال۔ ۶۰) کہا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ اس کو اس حد تک حاصل کرو کہ دوسروں کے اوپر تمھارا رعب قائم ہو جائے۔
قوت مرہیہ کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ جو تمام مسلمانوں سے متعلق ہے اور ہر مسلم گروہ اپنی بساط کے مطابق اس کے حصول کی جد و جہد کر سکتا ہے۔ دوسرے وہ جس کا تعلق صرف اس مسلم معاشرہ سے ہے جو با اقتدار ہو۔ موجودہ زمانے میں ان دونوں قوتوں کے معنی کیا ہیں اور ان کو کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے، اس کی وضاحت کے لئے ہم جاپان اور روس کی مثال دیں گے۔
دوسری جنگ عظیم (۱۹۴۵ء - ۱۹۳۹) میں جب جاپان کو شکست ہوئی اور اس کو غیر مسلح کر کے امریکی فوجوں نے جاپان پر قبضہ کر لیا۔ تو جاپان کے لئے عسکری اور سیاسی عزائم کے دروازے بند ہو گئے۔ اس موقع پر شہنشاہ جاپان ہیرو ہٹو(1901 (۱۹۰۱ء) نے تقریر کی اور کہا کہ ”ہمیں ایک ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے، تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں۔ اب پورا جاپان غیر سیاسی میدانوں میں ترقی کی راہ پر لگ گیا۔ انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues