Al-Risala · December 1976 · page 45

تعمیر ملت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۵

نے اپنے ماسٹرورں کو منسٹروں کی تنخواہ اور مجسٹریٹوں کے اعتبارات دے دیئے تاکہ تعلیم کے معیار کو انتہائی حد تک بلند کر سکیں۔ صحافت کو اتنی ترقی دی کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ چھپنے والا اخبار جاپانی اخبار ہے۔ سائنس اور صنعت میں اتنا زیادہ کمال پیدا کیا کہ لوہا نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کی سب سے بڑی مشین (سپر ٹینکر) بناتے ہیں۔ انھوں نے اپنی مصنوعات کو کوالٹی کے اختیار سے اتنا بلند کیا کہ اس کو نقص بدرجه صفر (ZERO DEFECTS) کے مقام تک پہنچا دیا۔ قومی احساس اور نظم و ضبط میں اتنی ترقی کی کہ آج دنیا کی کوئی قوم اس معاملے میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہ ترقیاں اگرچہ بظاہر غیر عسکری اور غیر سیاسی تھیں۔ مگر وہ اتنی طاقت و ثابت ہوئیں کہ اس کے بعد کسی مقابلہ کے بغیر امریکہ نے جاپان کی سرزمین سے اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا۔

تعمیر و ترقی کا یہ میدان، اپنی بساط کے مطابق ، ہر مسلمان گروہ کے لئے کھلا ہوا ہے خواہ وہ اقلیت میں ہو یا اکثریت میں۔ بے اقتدار ہو یا اقتدار۔ اسی ترقی کی بدولت افریقہ کے متعدد ملکوں میں یہ حال ہے کہ ملک کی آبادی میں مسلمانوں کی اکثریت ہے مگر عملاً سیاست اور دوسرے اجتماعی شعبوں پر عیسائی قبضہ کئے ہوئے ہیں، کیونکہ وہ علم و سائنس، صنعت و حرفت اور نظم و ضبط میں مسلمانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر نائیجریا کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد65 فی صد ہے اور عیسائیوں کی صرف ۲ فی صد ۔ مگر ۱۹۷۲ میں وہاں کی پندرہ رکنی کابینہ میں ۵ مسلم وزیر تھے اور ۱۰ عیسائی وزیر۔ اس فرق کی وجہ تعلیم میں عیسائیوں کی برتری اور مسلمانوں کی پس ماندگی ہے۔ سرکاری مدارس میں مسلم طلبہ کی تعداد 25 فی صد سے زیادہ نہیں ہوتی ۔ اعلیٰ مراحل کی تعلیم میں تناسب اور بھی کم ہو جاتا ہے جب کہ عیسائی طلبہ ملک میں دو فی صد ہونے کے باوجود تعلیمی اداروں میں بھرے ہوتے ہیں۔ دوسری نوعیت کی ایک مثال روس ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے اپنے حریف سوویت روس کے خلاف یہ اسکیم بنائی کہ وہ اس کے سرحدی ملکوں سے معاہدے کر کے وہاں اپنے فوجی اڈے قائم کرے اور اس کو اپنے گھیرے میں لے لے۔ ناٹو (NATO)، سیٹو (SEATO) اور سینٹو (CENTO) اسی قسم کے معاہدات تھے جن کے ذریعے امریکہ نے اپنی جنگی مشین کو اٹلانٹک پار کر کے یورپ، شمالی افریقہ اور ایشیا تک پہنچا دیا، اس طرح اپنے دو درجن فوجی اڈوں کے ذریعے وہ اس پوزیشن میں ہو گیا کہ کمیونسٹ دنیا کو عین اس کی سرحدوں کے پاس نشانہ بنا سکے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ روس کو تو اپنے دشمن پر وار کرنے کے لئے زمین کے گولے کی ایک چوتھائی مسافت طے کرنی ہوگی۔ جب کہ امریکی اڈے اس کی سرحد کے اتنے قریب ہیں کہ وہ پانچ سے دس منٹ کے اندر سوویت روس کے تمام اہم ترین نشانوں پر پہنچ سکتے ہیں ۔

اب روس نے یہ کیا کہ سائنس دانوں کی ایک فوج اس کام پر مامور کر دی کہ وہ ایسا تیز رفتار ہتھیار دریافت کریں جس کے ذریعہ ماسکو کے حکمراں اپنے ملک میں بیٹھے بیٹھے امریکہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتے ہوں۔ ستمبر ۱۹۵۹ میں روسی راکٹ لیونگ نمبر ۲ کا ٹھیک اندازہ کے مطابق چاند پر پہنچنا اس بات کا خاموش اعلان تھا کہ یہ تحقیق کامیاب ہوگئی ہے۔ زمین سے چاند کا فاصلہ روس سے امریکہ کے فاصلہ کے مقابلہ میں پچاس گنا زیادہ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page