Al-Risala · December 1976 · page 46

تعمیر ملت

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۶

اب جو تیز رفتار راکٹ مشینوں کا بکس چاند پر پہنچا سکتا ہے ، وہ بم کے گولے بھی دور دراز ملکوں میں گرا سکتا ہے۔ ریڈیائی کنٹرول کی جس اہلیت کا مظاہرہ خلائی پرواز میں ہوا ، وہ ثابت کرنے کے لئے کافی تھا کہ ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بعید ترین زمینی نشانوں پر نہایت صحت کے ساتھ گرائے جاسکتے ہیں۔ اس دریافت کا سامنے آنا تھا کہ امریکہ کی فوجی حکمت عملی اچانک بے بنیاد عمارت کی طرح زمین پر آگئی۔

روس کو زمینی چیلنج دیا گیا تھا۔ اس نے اس کا آسمانی حل دریافت کر لیا یہ معلوم ہوا کہ اس دنیا میں ترقی کی کوئی آخری حد نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے طاقت وقوت کے بے پناہ امکانات رکھ دیئے ہیں اور حوصلہ اور ہمت ہو تو ہر مشکل کا ایسا بالا تر حل دریافت کیا جا سکتا ہے کہ دشمن کی ساری کارروائیاں بطل ما كانوا يعملون (اعراف - ۱۱) کا مصداق ہو کر رہ جائیں۔

اگر چہ اس دنیا میں اہل ایمان کا اصل مشن دعوت و تبلیغ ہے۔ مگر یہ واقعہ کہ یہ دنیا ایک مادی دنیا ہے، اور یہ واقعہ کہ یہاں ہمیشہ حق کی مخالفت کرنے والے گروہ موجود رہتے ہیں، اہل ایمان کے لئے ضروری کر دیتا ہے کہ وہ مادی اسباب کی فراہمی میں بقدر وسع پوری جدوجہد کریں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے ۱۳ ویں سال مکہ سے انتہائی بے سروسامانی کے ساتھ ہجرت کی۔ مگر اس کے دس برس بعد جب آپ نے فتح مکہ کے لئے مارچ کیا تو ایک طرف تبلیغی کام اس حد تک پھیل چکا تھا کہ دس ہزار مردان کار آپ کے ہمرکاب تھے۔ دوسری طرف تیاری کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے دو ہزار آدمی اس طرح زرہ پوش تھے کہ ان کی صرف آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں (لا یری منهم سوی الحدق، طبری)

موجودہ زمانے میں اس سنت پر عمل کرنے کی اہمیت پہلے سے بھی زیادہ شدید ہو گئی ہے۔ آج کی جنگوں میں عضلاتی طاقت کے بجائے مشین کی اہمیت اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ فوجی نسلوں (MARTIAL RACES) کا قدیم تصور زمانہ ماضی کا افسانہ بن گیا ہے۔ اس طرح اقتصادی ذرائع نے موجودہ زمانہ میں اس قدر وسعت اختیار کی ہے کہ پوری انسانی زندگی اس کے تابع ہو گئی ہے۔ قدیم زمانہ میں دعوت و تبلیغ کا کوئی براہ راست تعلق اقتصادیات سے نہ تھا مگر آج اگر آپ ’’قلم‘‘ کو دعوت و تبلیغ کے لئے استعمال کرنا چاہیں تو عظیم اقتصادی وسائل کے بغیر اس کو مؤثر طور پر استعمال ہی نہیں کر سکتے۔ پھر جب اس واقعہ کو دیکھا جائے کہ دوسرے مذاہب ہوائی جہازوں اور ریڈیو اسٹیشنوں کے ذریعے اپنے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں تو یہ اقتصادی ضرورت سیکڑوں گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح شخصی ضرورت کے لئے بھی آج اقتصادی وسائل کی اہمیت پچھلے تمام ادوار سے زیادہ ہے۔ آج انسان کی حقیقی ضروریات اتنی بڑھ چکی ہیں کہ قدیم طرز کی افسانوی سادگی کے ساتھ زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ۔

مسلمان کی اصل ذمہ داری اگر چہ دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری ہے۔ مگر مندرجہ بالا وجوہ تقاضا کرتے ہیں کہ اسی کے ساتھ یہ جدوجہد بھی بھر پور طور پر کی جائے کہ مسلمان جدید اقتصادیات میں اپنا جائز حصہ پاسکیں۔ انفرادی حیثیت سے بھی اور قومی حیثیت سے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page