تعمیر ملت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۷
آواز : قدرت کا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہم جو الفاظ بولتے ہیں، وہ بے آواز لہروں کی صورت میں ہوا پر اسی طرح سفر کرتے ہیں جس طرح پانی کی سطح پر موجیں پیدا ہوتی ہیں اور بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ ایک شخص کے م سے نکلی ہوئی آواز کے آپ تک پہنچنے کے لئے درمیان میں ہوا کا ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ درمیانی واسطہ نہ ہو تو دو قریب بیٹھے ہوئے آدمی ایک دوسرے کا ہونٹ ہلتے ہوئے دیکھیں گے مگر وہ ایک دوسرے کی بات نہ سن سکیں گے۔
اس کو مثال کے ذریعہ یوں سمجھ سکتے ہیں کہ شیشہ کے ایک فانوس کے اندر برقی گھنٹی رکھ کر اسے بجایا جائے تو اس کی آواز صاف سنائی دے گی۔ لیکن اگر فانوس کے اندر کی ہوا کو پوری طرح نکال کر اسے بند کر دیا جائے اور اس کے بعد گھنٹی بجائی جائے تو آپ شیشہ کے اندر گھنٹی کو بجتا ہوا دیکھیں گے، مگر اس کی آواز نہ سنیں گے۔ کیونکہ گھنٹی کے بجنے سے جو ارتعاش پیدا ہوتا ہے، اس کو قبول کرکے آپ کے کانوں تک پہنچانے کے لئے شیشہ کے اندر ہوا موجود نہیں ہے۔ مگر ریڈیائی خبر رسانی کے لئے ہوا کا ذریعہ بالکل ناکافی ہے۔ کیونکہ ہوا کے ذریعہ ہماری آواز پانچ سکنڈ میں صرف ایک میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کا ذریعہ صرف قریبی ماحول میں گفتگو کے لئے کار آمد ہے۔ وہ ہماری آواز کو دور تک نہیں پہنچا سکتا۔ اس کا اندازہ آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ ہندوستان سے اگر ہم اپنی آواز کو امریکہ بھیجنا چاہیں تو ہوا کی رفتار سے وہ اپنی منزل پر سات گھنٹے میں پہنچے گی۔ ظاہر ہے کہ دوسری طرف سے جواب آنے میں بھی اتنی ہی دیر لگے گی۔ گویا نئی دہلی کا ایک شخص نیو یارک میں اپنے ایک ساتھی کو ٹیلی فون کر رہا ہو تو اس رفتار سے اپنے ایک فقرہ کا جواب سننے کے لئے اس کو چودہ گھنٹہ تک انتظار کرنا پڑے گا اگر آواز صرف ہوا کے ذریعے پھیلتی تو اس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ممکن نہ ہوتا۔ مگر قدرت نے اس کے لئے ہمیں ایک اور انتہائی تیز رفتار ذریعہ مہیا کیا ہے۔ یہ روشنی یا برقی رو ہے جس کی رفتار ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل سے بھی زیادہ ہے۔ ریڈیائی پیغامات میں اسی ذریعہ سے کام لیا جاتا ہے۔ جب کوئی بولنے والا ریڈیو اسٹیشن میں لگے ہوئے مائکرو فون کے پاس آواز نکالتا ہے تو مائکرو فون آواز کو لے کر اسے برقی رو میں تبدیل کر دیتا ہے اور تار کے ذریعہ اس کو فی الفور آلہ نشر (ٹرانس میٹر) تک بھیج دیتا ہے۔ آلات نشر آواز کے پہنچتے ہی مرتعش ہو کر فضا میں دوبارہ وہی ارتعاش پیدا کر دیتے ہیں جو مقرر کے بولنے سے ہوا تھا۔ اس طرح پانچ سیکنڈ میں ایک میل چلنے والی آواز برقی لہروں میں تبدیل ہو کر ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کی رفتار حاصل کر لیتی ہے۔ اس طرح آواز نہ ایک سیکنڈ کے 8 ویں حصے میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے کیونکہ زمین کا پورا گھیرا صرف ۲۵ ہزار میل ہے۔ یہی تیز رفتار لاسلکی موجیں ہیں جن کو ہمارے ریڈیو سٹ کی آواز گیر مشین لیتی ہے اور پھر بلند آواز میں ان کا اعادہ کردیتی ہے۔ اس طرح ہزاروں میل دور بولی ہوئی آواز کو ہم کسی تاخیر کے بغیر سننے لگتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues