تعمیر ملت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۸
مصری ریڈیو کے ہفت روزہ ترجمان مجلۃ الاذاعتہ والتلیفزیون (۷ار جون ۱۹۷۶) نے مولانا وحید الدین خاں کی تازہ عربی کتاب الاسلام والعصر الحدیث پر جو تبصرہ شائع کیا ہے، اس کا خلاصہ یہاں دیا جارہا ہے۔ اس طرح کے تبصرے عرب دنیا کے تقریباً تمام قابلِ ذکر اخبارات ورسائل میں نمایاں طور پر شائع کئے گئے ہیں۔ یہ تبصرے بتاتے ہیں کہ سارا عالمِ اسلام آج ایک نئی اسلامی دعوت کے انتظار میں ہے، ایک ایسی دعوت جو ایک طرف اہلِ اسلام کے اندر از سر نو ایمانی حرارت پیدا کرے اور دوسری طرف دیگر اقوام تک خدا کا پیغام پہنچانے کی منصوبہ بندی کرے ۔ ہندوستانی اسلامی مفکر علامہ وحید الدین خاں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ انھوں نے اس سے پہلے اسلامی کتب خانہ کو الاسلام تمدی، الدین فی مواجہۃ العلم حکمہ الدین جیسی کتابیں دی ہیں۔ وہ ہمارے ان بہت سے اسلامی مصنفین کی طرح نہیں ہیں جو محض لکھنے پر قادر ہوتے ہیں اور ان کے بس میں صرف یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں صفحات سیاہ کرکے ان سے بیسیوں کتابیں بنا لیں، جن سے لائبریریاں تو بھر جاتی ہیں، مگر نہ وہ ہمارے اندر کوئی گونج پیدا کرتیں اور نہ ان مسلم نوجوانوں پر کچھ اثر ڈالتی ہیں جو کہ سنجیدہ اسلامی فکر کے پیاسے ہیں۔ ہمارا یہ عظیم اسلامی مفکر ان چند اصحابِ قلم میں سے ہے جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ جنہوں نے اپنے لئے ایک نہایت مشکل راستہ اختیار کیا ہے، کیونکہ وہ مفکرانہ صلاحیت کے حامل ہیں نہ کہ صرف صاحبِ قلم ہیں۔ یہ مشکل راستہ ان چیلنجوں کا سامنا کرتا ہے جواسلام کو داخلی اور خارجی دونوں حیثیتوں سے درپیش ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب میں ساٹھ سے زیادہ صفحات نہیں عام قاری اس کو ایک گھنٹہ سے بھی کم میں پڑھ لے گا۔ مگر صاحبِ علم قاری کے لئے اس کو سمجھنے میں کئی دن لگ جائیں گے۔ کیونکہ یہ کتاب حجم کے اعتبار سے اگرچہ مختصر ہے، مگر کیفیت کے اعتبار سے وہ گہری سوچ کی طالب ہے کیونکہ وہ نہایت اہم سوالات پر بحث کرتی ہے۔ ان سوالات پر اس سے پہلے بھی بحثیں کی جاچکی ہیں مگر جو چیز یہاں نہیں ہے وہ اس کے مفکر مولف کا منہج اور طریقہ جو کہ موضوعی اور مجرد ہے۔ اور عاقلانہ منطقیت پر مبنی ہے نہ کہ اس دینی جوشیلے پن پر جو کہ ہمارے علاقات پسند اسلامی مصنفین کے محدود افکار پر چھایا رہتا ہے۔
اس عظیم اسلامی مفکر نے فقط میسر شدہ دینی حوالوں پر اکتفا نہیں کیا ہے جن پر عموماً مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے اعتماد کر لیا جاتا ہے۔ بلکہ انھوں نے دنیا کی جدید فکری تحریکوں کا مطالعہ کیا ہے، خصوصاً ان تحریکوں کا جو فکر اسلامی سے متصادم ہیں۔ انھوں نے ان تحریکوں کے نقائص اسی معیارِ استدلال سے واضح کئے ہیں جو کہ ان تحریکوں کے نزدیک قابل اعتماد ہیں۔ اس طرح یہ عظیم مفکر اس پر قادر ہوا ہے کہ عام انسانیت کی سطح پر اسلامی فکر کے لئے جگہ پیدا کرے۔ زیر تبصرہ کتاب (الاسلام والعصر الحدیث) جو کہ ہمارے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues