تعمیر ملت
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۰
سامنے ہے اور جس کو قاہرہ کے المختار الاسلامی نے شائع چیلنج کرنے والے اور اس کا نشانہ بنانے والے افکار کا کیا ہے۔ اپنے پورے مفہوم کے اعتبار سے ایک وسیع مطالعہ سامنا کرنا۔ دوم، ایسے افکار کی سرکوبی جو اسلام کے ہے۔ اس نے ہمیں اس مزید یقین سے ہمکنار کیا ہے کہ مسلم اندر گھس آئے ہوں اور جو غفلت کے زمانوں میں اسلام مفکر علامہ وحید الدین خاں کا امتیاز یہ ہے کہ وہ جو کچھ لکھتے کے لئے آزمائش بنے۔ سوم، اسلامی فکر کو نئے طریقے سے ہے، پہلے اس کی پلاننگ کرتے ہیں۔ اپنی تفکیر کا منہج خود طے اس طرح ترتیب دینا کہ وہ اس مقام کو حاصل کرے جس کرتے ہیں تاکہ اپنے مطلوبہ نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ نتیجہ ان کا وہ مستحق ہے اور اس قابل ہو جائے کہ اس حقیقی دین کی کے یہاں تین شقوں میں تقسیم ہوتا ہے : اول، اسلام کو نمائندگی کر سکے جس کو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے پسند فرمایا ہے وہ صحافت کو حقیر پیشہ سمجھتے ہیں شیخ علی یوسف انیسویں صدی کے ایک مصری ادیب تھے جو ایک عربی جریدہ "الموید" کے ایڈیٹر تھے انھوں نے مصر کی ایک خاتون سے شادی کی جس کا نام صفیۃ السادات تھا۔ یہ ایک صوفی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اپنے والد کی اجازت کے بغیر شیخ علی یوسف سے شادی کرلی تھی۔ بعد کو جب ان کے خاندان والوں کو معلوم ہوا کہ ان کے شوہر ایک صحافی ہیں تو یہ بات انھیں اپنے خاندانی وقار کے خلاف معلوم ہوئی کہ ان کے یہاں کی ایک لڑکی ایسا گھٹیا پیشہ رکھنے والے ایک آدمی سے شادی کر لے۔ انھوں نے خاتون پر زور ڈال کر انھیں راضی کیا کہ وہ عدالت میں تفریق کی درخواست دے کیونکہ ان کا شوہر شریعت کے مطابق ان کا کفو نہیں ہے اور وہ صحافت جیسا غیر شریف پیشہ کرتا ہے یہ دعوی قاضی شرع (شیخ ابو خطوۃ) کی عدالت میں پیش ہوا اور قاضی نے مقدمہ کی سماعت کے بعد فیصلہ کیا کہ ایک شخص جو صحافی ہو، وہ ایک شریف خاتون کا کفو نہیں ہے اور شیخ علی یوسف اور ان کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی۔
سید جمال الدین افغانی (1897-1838) ۱۸۳۸) جن دنوں آستانہ (ترکی) میں تھے، ان کی ملاقات شیخ حسین الجسر (۱۹۰۹ ۔ ۱۸۴۵ سے ہوئی۔ شیخ جسر اپنے زمانے میں شام کے بڑے علماء میں تھے۔ تاہم وہ جریدہ طرابلس میں مقالات لکھا کرتے تھے۔ جمال الدین افغانی کو ان کے بعض خیالات سے اختلاف تھا۔ اتفاقاً دونوں کی ملاقات المابین (سلطانی سرا) میں ہوئی۔ جمال الدین افغانی نے ان پر تنقید شروع کی۔ شیخ حسین جسر نے جواب میں کچھ کہا۔ اس کے بعد جمال الدین افغانی بلند آواز سے بولنے لگے۔ شیخ حسین جسر نے کہا: آہستہ بولئے، کہیں المابین کے لوگ سن نہ لیں کہ میں صحافی ہوں اور رسائل میں مضامین لکھتا ہوں۔ یہ سن کر جمال الدین افغانی غضبناک ہو گئے اور کہا: ولماذا یا استاذ تحاذر هذا وَتَأْبَى الانتساب الى الصحافة (آپ اتنا ڈرتے کیوں ہیں اور صحافت سے اپنی نسبت کا انکار کر رہے ہیں) صحافت ایک اچھا کام ہے۔ میں خود صحافی ہوں۔ پیرس سے میں نے العروة الوثقی کے نام سے ایک رسالہ نکالا تھا۔ شیخ جسر نے اس کو نہیں مانا، انھوں نے کہا: ان مثله فى انتسابه الى علم الدين يَزْرِي به فى نظر الناس الاشتغال بالصحافة الوریہ، ۲۱۱
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues