Al-Risala · December 1976 · page 51

ایک ملاقات

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۱

ایک ملاقات

ناندیڑ، تقسیم سے پہلے ریاست حیدر آباد کا حصہ تھا۔ اب وہ مہاراشٹر کا ایک ضلع ہے۔ دہلی سے ۱۹۵۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر آباد اس علاقہ میں اگر آپ اس کے ماضی کے آثار دیکھنا چاہیں تو وہ اس کی روزمرہ کی سرگرمیوں میں کہیں نظر نہ آئیں گے۔ اس واقعہ کو آپ گزری ہوئی کہانی کے طور پر ہی کسی سے سن سکتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ یہاں ایسے لوگ تو بہت ہیں جو بے رحم حال کو اپنی محرومیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہوں، مگر ایسے لوگوں کی تلاش سعی لآحاصل سے زیادہ نہیں جو زندگی کی اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ حال دراصل ماضی ہی کا دوسرا نام ہے۔ افراد ہوں یا قومیں، اپنے آنے والے دنوں میں وہ وہی چیز کاٹتی ہیں جس کا بیج انھوں نے اپنے پچھلے دنوں میں بویا تھا۔ جولائی ۱۹۷۵ کا آخری اور اگست کا پہلا ہفتہ میرا اس علاقہ میں گزرا۔ ناندیڑ سے ۵۰ میل کے فاصلے پر اس کا ایک قصبہ کھیڑ ہے۔ یہ حیدر آباد سے ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ کھیڑ میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی، ان میں سے ایک قابل ذکر شخص کشن جیونت راؤ پٹیل (پیدائش ۱۹۳۴) ہیں۔ چھایا اسٹوڈیو کے نام سے یہاں ان کی فوٹوگرافی کی دکان ہے۔ ان کی مادری زبان مراٹھی ہے۔ ہندی بھی اچھی جانتے ہیں۔ انھوں نے ہندی زبان میں متعدد اسلامی کتابیں پڑھی ہیں۔ قرآن کا ہندی ترجمہ روزانہ اہتمام سے پڑھتے ہیں۔ چار بار مکمل ترجمہ پڑھ چکے ہیں۔ اب پانچویں بار پڑھنا شروع کیا ہے۔

۲۷ جولائی کی شام کو ہم ان کے کھیتوں میں بیٹھے ہوئے تھے۔ برسات کے موسم کی وجہ سے ہر طرف ہریالی چھائی ہوئی تھی۔ ہرے بھرے کھیتوں سے دور پہاڑ کا منظر اس میں مزید حسن پیدا کر رہا تھا۔ آپ کی فصل ماشاء اللہ اس پاس کے سب کھیتوں سے بہتر ہے ۔ میں نے کہا: "یہ خدا کی دین ہے، ورنہ ہم نے تو کوئی خاص کوشش نہیں کی تھی" انھوں نے جواب دیا۔ ایک اور صاحب جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے انھوں نے بتایا کہ کشن پٹیل صاحب اپنی پیداوار میں سے باقاعدہ عشر نکالتے ہیں ۔ ”یہ اسی کی برکت ہے“ انھوں نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا اور کشن پٹیل صاحب نے مسکرا کر اس کی تصدیق کی۔

قرآن کے سلسلے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس میں مجھے کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی۔ سب نہایت عمدہ باتیں ہیں۔ آدمی اگر ان کو اپنا لے تو اس کی زندگی سدھر جائے۔ میں نے کہا بطور اعتراض نہیں تاہم بطور سوال آپ کے دماغ میں کچھ باتیں ہو سکتی ہیں، ان کو بتائیے تاکہ ان پر گفتگو کی جائے۔ انھوں نے ایک سوال یہ رکھا کہ عبادت نماز روزہ کا نام ہے یا عمل کا۔ میں نے کہا عبادت اصلا تو نماز روزہ ہی کا نام ہے۔ تاہم جب آدمی کے اندر صحیح معنوں میں نماز روزہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے اخلاق و معاملات میں بھی لازمی طور پر اس کی جھلک آنے لگتی ہے۔ اس لحاظ سے عمل بھی عبادت کے تقاضوں میں شامل ہے۔ انھوں نے بعض اسلامی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں لکھا ہے کہ نماز عملی زندگی کے لئے ٹریننگ ہے۔ میں نے کہا، اس کا مطلب یہ ہے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page