ایک ملاقات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۲
کہ نماز آدمی کی اصل زندگی سے الگ نہیں۔ جب ایک آدمی حقیقی معنوں میں نمازی بن جاتا ہے تو اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی طبیعت ابھرتی ہے جو برائیوں سے نفرت کرنے لگتی ہے اور بھلائیوں کو چاہنے لگتی ہے۔ باقی جہاں تک نماز کی اصل حقیقت کا تعلق ہے، تو نماز اللہ سے نزدیکی کا نام ہے، جیسا کہ قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں آپ نے دیکھا ہو گا۔ یہ بات قرآن و حدیث میں بھی بتائی گئی ہے اور تجربہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی جب سجدہ میں سر رکھتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل خدا کے پاس پہنچ گیا ہے۔ یہ نزدیکی کا احساس کسی بھی دوسری چیز سے حاصل نہیں ہوتا۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ایک بندہ کے لئے سب سے بڑی چیز یہی ہے کہ وہ اپنے مالک کے نزدیک ہو جائے۔ سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶۹ کے تحت انھوں نے سوال کیا کہ اس سے تو یہی بات نکلتی ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ یہودی اور عیسائی وغیرہ بھی نجات یافتہ ہیں۔ اسی طرح سورہ حج آیت نمبر40 سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسجدوں کے علاوہ گر جوں وغیرہ میں خدا کا جو نام لیا جاتا ہے، قرآن اس کی بھی تصدیق کر رہا ہے۔
پہلی آیت کے سلسلے میں میں نے کہا کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ نجات کا تعلق کسی گرو یا نسل سے نہیں ہے خواہ وہ مسلمانوں کا گروہ ہو یا یہودیوں کا یا عیسائیوں کا۔ بلکہ عمل سے ہے، اور عمل نام ہے اس کا کہ آدمی خدا پر ایمان لائے، آخرت پر یقین کرے اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرے ۔ اس آیت میں گروہ ہی نجات کی نفی کرتے ہوئے عقیدہ وکردار کو نجات کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اسی طرح دوسری آیت میں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ خدا کا حقیقی ذکر کہاں ہوتا ہے۔ اس میں در اصل اللہ کا یہ قانون بتایا گیا ہے کہ وہ کسی ایک گروہ کو مستقل طور پر اقتدار پر قابض رہنے نہیں دیتا۔ اگر ایسا نہ ہو تو حکمراں طبقوں میں اجارہ داری کی ذہنیت پیدا ہو جائے اور ان کا ظلم اس قدر بڑھ جائے کہ وہ نہ صرف اپنے سیاسی مخالفوں کو قتل کریں بلکہ معاشرہ کے بے ضرر طبقات کو بھی روند ڈالیں، حتی کہ عبادت خانوں میں خاموشی کے ساتھ خدا کا نام لینے والے لوگوں کو بھی۔
"حضرت اسود جس کو حج میں چومتے ہیں، یہ کیا چیز ہے، کیونکہ قرآن میں حج کے جح احکام ہیں ان میں حضرت اسود کا کوئی ذکر نہیں"۔
یہ "حضرت اسود" نہیں بلکہ حجر اسود ہے۔ اس کے معنیٰ ہیں کالا پتھر۔ یہ کعبہ کے ایک کونے میں لگا ہوا ہے اور وہیں سے طواف شروع کرتے ہیں۔ اس کے چومنے کے بارے میں میں نے بتایا کہ اس کا کوئی تعلق حجر اسود کے "حضرت" ہونے یا مقدس سمجھنے سے نہیں ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر نے فرمایا، یہ ویسا ہی ایک پتھر ہے جیسا کہ عام پتھر۔ حج کے موقع پر جب ایک مسلمان حجر اسود کو چومتا ہے یا کعبہ کے غلاف سے لپٹتا ہے تو یہ اس کے اس جذبہ کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب سے لپٹ جائے اور اس کے قدموں کو چوم لے۔ اس میں ہر گز ایسا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا کہ حجر اسود یا غلاف کعبہ کے اندر خود کوئی تقدس ہے یا وہ آدمی کو نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
پھر یہ معاملہ صرف حجر اسود تک محدود نہیں، حقیقت یہ ہے کہ مومن کی زندگی میں ایسے مواقع بار بار بلکہ روزانہ آتے رہتے ہیں جب وہ سجدہ میں اپنا سر رکھتا ہے تو زمین کا وہ ٹکڑا اس کے لئے "حجر اسود" بن جاتا ہے جہاں اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues