ایک ملاقات
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۳
پیشانی اپنے رب کی دھرتی کو چھورہی ہو۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کو سر خدا کے قدموں سے لپٹ گیا ہے یہاں تک کہ یہ کیفیت کبھی اتنی شدت سے طاری ہوتی ہے کہ اس کا جی چاہتا ہے کہ اپنا سر ہی نہ اٹھائے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ درخت کی ایک ہری پتی کو دیکھتا ہے یا ایک خوبصورت پھول اس کے سامنے آتا ہے، تو خدا کی یاد اور محبت ایسے جذبہ کی صورت میں ڈھل جاتی ہے کہ وہ اس پتی اور پھول کا خدا کا ایک جلوہ سمجھ کر اس کو اپنی آنکھوں سے لگالیتا ہے۔ خدا سے لپٹ جانے اور اس کے قدموں کو چوم لینے کا یہی جذبہ جو مومن کی زندگی میں روزانہ کسی نہ کسی شکل میں ظہور میں آتا ہے، وہ حج کے موقع پر حجر اسود کو چومنے یا غلاف کعبہ سے لپٹنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ حجر اسود مومن کی عام اور روزمرہ زندگی ہی کا ایک تجربہ ہے، وہ نہ کوئی راز ہے اور نہ کوئی منفرد اور مخصوص چیز ۔ اگرچہ عام انسان ایک خاص پتھر سے اس کیفیت کو پاتے ہیں جو کعبہ میں نصب ہے۔ مگر جو لوگ گہرائی کے ساتھ خدا کو پالیتے ہیں، ان کی نظر تعینات سے بلند ہو جاتی ہے۔ ان کے لئے زمین کا ہر ذرہ حجر اسود ہے اور درخت کا ہر پتہ غلاف کعبہ ۔ " سوره آل عمران آیت نمبر 37 میں ہے کہ حضرت مریم کے پاس جب حضرت زکریا آتے تو وہ ہمیشہ ان کے پاس رزق پاتے۔ یہ رزق کیا آسمانی پھل ہوتا تھا “ " عوام میں یہی مشہور ہے کہ وہ آسمانی پھل ہوتا تھا، مگر خود آیت میں اس کی تردید موجود ہے۔ آیت میں بتایا گیا ہے کہ وکفلها زکریا یعنی حضرت مریم کی کفالت حضرت زکریا کرتے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ جب ان کے کفیل اور ان کی ضروریات کے ذمہ دار حضرت زکریا تھے تو آسمان سے ان کا کھانا آنے کی کیا ضرورت تھی ۔ آسمان سے اس قسم کی مدد کبھی خواہ مخواه نہیں آتی بلکہ صرف حقیقی ضرورت کے وقت اور انتہائی مخصوص حالات میں آتی ہے ۔ یہ رزق حقیقتاً رزق معرفت تھا۔ جب ایک شخص کے اندر ایمان کا اجالا پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی طرف مائل ہو جاتا ہے تو ساری دنیا اس کے لئے علم و معرفت کا دستر خوان بن جاتی ہے۔ ہر واقعہ اور ہر مشاہدہ میں اس کو خدائی انوار دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کی روح کو ایک اعلیٰ رزق کی خوراک پہنچنے لگتی ہے۔ حضرت مریم کی باتوں میں اسی ” رزق “ کے جلوے حضرت زکریا کو نظر آئے تھے۔
" قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ زمین و آسمان پر غور کرو ، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن یہ چاہتا ہے کہ لوگ سائنس کے علوم پڑھیں “ میں نے کہا ، یہ صحیح ہے کہ سائنس زمین و آسمان ہی کے علوم کا نام ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ سائنسی علوم سے خدا کی معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مگر جہاں تک قرآن کے اس قسم کے ارشادات کا تعلق ہے ، اس سے مراد معروف سائنس کے علوم نہیں ہیں۔ بلکہ زمین و آسمان کی آیات (نشانیوں) پر غور کرنا ہے۔ زمین و آسمان کا سائنسی مطالعہ اور زمین و آسمان کی نشانیوں پر غور کرنا، دونوں میں بہت فرق ہے۔ سائنسی مطالعہ یا تو مجرد مطالعہ ہے یا افادی مطالعہ۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس داں کی ساری تو جہ ٹکنیکل پہلوؤں پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس قرآن یہ چاہتا ہے کہ زمین و آسمان کے نظام میں جو بے شمار سبق کے پہلو ہیں، ان پر لوگ غور کریں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح قرآن میں اللہ تعالیٰ نے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues