Al-Risala · December 1976 · page 54

ایک ملاقات

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۴

اپنے علم کو کھولا ہے ، اسی طرح اس نے کائنات کے اندر اپنی معرفت کے شرارے رکھ دیئے ہیں۔ جو لوگ اس نظر سے کائنات پر غور کرتے ہیں ، وہ اس کے اندر ایمان و معرفت کے اتھاہ خزانے پالیتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اس مشاہدہ کے آخری مقام پر پہنچ کر وہ پکار اٹھتے ہیں کہ کتابیں صرف دو ہیں: قرآن اور کائنات۔

" قرآن کی سورہ نمبر 33 میں کہا گیا ہے کہ منہ بولا بیٹا (لے پالک) بنانا غلط ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہہ دے کہ تجھ کو طلاق ہے تو اس پر طلاق پڑ جاتی ہے۔ " یہ سوال پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا " ایک جگہ قرآن کہہ رہا ہے کہ منہ بولے لفظوں سے کوئی کسی کا بیٹا نہیں ہوتا، دوسری جگہ منھ سے کچھ الفاظ نکال دینے سے ایک شخص کی بیوی اس کی بیوی نہیں رہتی۔ "

میں نے کہا کہ یہ سوال میرے لئے نیا ہے اور اس کا جواب میں کل دوں گا۔ اگلے روز میں نے بتایا کہ دونوں مثالوں میں فرق ہے۔ بیوی کا معاملہ یہ ہے کہ نکاح کے ذریعے ایجاب و قبول سے وہ کسی کی بیوی بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ رشتہ لفظوں کے ذریعے قائم ہوتا ہے ، اسی لئے لفظوں ہی سے وہ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ مگر بیٹے کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ بیٹا پیدائش سے وجود میں آتا ہے۔ اس لئے لفظوں کے ذریعے نہ کوئی کسی کا بیٹا بن سکتا نہ لفظوں کے ذریعے وہ کسی کی فرزندی سے الگ ہو سکتا۔

" مسلمانوں میں جو لوگ ایسے ہیں کہ محض مسلمان کے گھر میں پیدا ہو گئے ہیں مگر اسلام پر ان کا عمل نہیں، وہ باعتبار حقیقت کا فروں کی مانند ہیں۔ پھر آپ ایسے لوگوں کو مسلمان کیوں کہتے ہیں ، ان کے کفر کا اعلان کیوں نہیں کرتے؟ " میں نے کہا اسلام کا اصل تعلق آخرت سے ہے ، وہاں کسی شخص کو جو چیز ملے گی ، وہ اس کی اصل حقیقت کی بنیاد پر ملے گی نہ کہ محض شہرت اور نام کی بنیاد پر۔ باقی جہاں تک دنیا کا تعلق ہے ، یہاں اس کے سوا کوئی اور قابل عمل صورت نہیں کہ جو شخص اپنے کو مسلمان کہتا ہے ، ہم اس کو مسلمان سمجھیں ۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو معاشرہ کے اندر بڑا انتشار پیدا ہوگا، ان کی اصلاح کے لئے تو ہم ان سے سب کچھ کہہ سکتے ہیں ، مگر ہم ان کے اوپر جج بن کر نہیں بیٹھ سکتے۔ " ایک شخص کا نام رابرٹ سن ہے ، مگر وہ خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہے اور ان ساری باتوں کو مانتا ہے جو اسلام میں بتائی گئی ہیں۔ اگر وہ رابرٹ سن نام کے ساتھ ہی مر جاتا ہے تو اس کی نجات ہوگی یا نہیں؟ " میں نے کہا کہ آخرت کی نجات کا کوئی بھی تعلق نام یا اعلان سے نہیں ہے۔ حنظلہ ایک مسلمان صحابی کا نام تھا اور حنظلہ بن ابو سفیان ایک کافر بھی تھے جو بدر میں مارے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو واقعات ملتے ہیں ، ان میں آپ نے صرف چند ہی لوگوں کے نام تبدیل کئے ۔ مثلاً ایک شخص کا نام عبد شتر تھا۔ آپ نے اس کا نام عبد خیر رکھ دیا۔ اس کے علاوہ آپ سے پہلے جو انبیاء دوسری قوموں اور دوسری زبانوں میں آئے ، ان کے یا ان کے ساتھیوں کے نام عربی نہ تھے بلکہ ان کی اپنی زبان یارواج کے مطابق تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ نجات کا معاملہ تمام تر خدا اور بندے کے درمیان کا ایک معاملہ ہے۔ اس نجات کے لئے اصل چیز اگرچہ ایمان ہے مگر ایمان کی کچھ علامت اس کی زندگی میں بھی ظاہر ہونی چاہئے ۔ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا ہم آپ پر ایمان لاتے ہیں مگر ہم نہ زکوۃ دینگے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page