Al-Risala · October 1976 · page 13

دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۳

محسوس کرتے تھے۔ مگر یہ کوئی صحت مند رجحان نہ تھا۔ کیونکہ زندگی کا راز پھیلنے میں ہے نہ کہ سمٹنے میں۔ حکومت کے تازہ عمل نے مسلمانوں کو دوبارہ جدوجہد کے پھیلے ہوئے میدان کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہ ایک قسم کی مہمیز ہے جوان کے لئے ترقی اور عروج کا ایک نیا وسیع تر راستہ کھول دے گی۔ اس معاملہ میں حکومت کی تعمیر پسندی کے ثبوت کے لئے یہ واقعہ کافی ہے کہ جامع مسجد سے جن دکانداروں کو ہٹایا گیا ہے، ان کو نئی زیادہ بہتر دکانیں حکومت کی طرف سے بنا کر دے دی گئی ہیں۔ پہلے ان کی دکانیں اگر کھوکھوں میں تھیں تو اب وہ سرخ پتھروں سے بنے ہوئے ’’مینا بازار‘‘ میں اپنی دکانیں سجائے ہوئے ہیں۔ شاہجہاں کا دور نئی شکل میں دوبارہ واپس آگیا ہے۔

جامع مسجد کے علاقہ کے لئے حکومت کا یہ منصوبہ اچانک طور پر پیدا نہیں ہوا ہے۔ تقریباً ۲۰ برس پہلے جامع مسجد کی ترقیاتی اسکیم بن چکی تھی۔ اس اسکیم کا محرک دراصل ہندوستان میں سیاحت کو ترقی دینا ہے۔ سیاحت موجودہ زمانہ میں ایک انڈسٹری بن گئی ہے۔ ۱۹۷۴ میں عالمی سیاحوں کی تعداد ۲۱۰ ملین تھی۔ آج تمام ممالک اپنے تاریخی مقامات اور قدرتی مناظر کو ترقی دے رہے ہیں تاکہ وہ بیرونی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ سکیں جو اپنے ساتھ بیرونی دولت کی بہت بڑی مقدار لے آتے ہیں۔ پچھلے برسوں میں ’’پیٹر و ڈالر‘‘ کے ظہور نے سیاحت کے عالمی نقشہ پر عربوں کی اہمیت بہت بڑھادی ہے۔ ہندوستان اب تک سیاحت کی انڈسٹری میں پیچھے رہا ہے۔ ۱۹۷۴ء میں ۲۳۲۰۰ کروڑ روپے سیاحوں کے ذریعے گردش میں آئے۔ مگر ان کا ایک فی صد سے بھی کم حصہ ہندوستان پہنچا۔ عالمی سیاحوں کی ۸۰ فی صد تعداد صرف ۲۰ ملکوں میں جاتی ہے۔

ہے ۔ حالاں کہ اس عظیم ملک میں وہ سب کچھ ہے جو اس کو عالمی سیاحت کا مرکز بنانے کے لئے کافی ہے ۔ خاص طور پر مغربی ایشیا کے مسلم ملکوں کے سیاح اور اس علاقے سے آنے والی اہم شخصیتوں کو دکھانے کے لئے ہمارے یہاں کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ سامان موجود ہے ۔ ان میں بھی تاج محل کے بعد شاہ جہانی مسجد اور لال قلعہ اپنی منفرد خصوصیات کی وجہ سے اہم ترین درجہ رکھتے ہیں ۔

حکومت کے اس اقدام نے اس علاقے کو اچانک مقامی اہمیت کے ایک بازار سے اٹھا کر بین الالالاقوامی اہمیت کا بازار بنا دیا ہے ۔ یہ علاقہ عنقریب ہندوستان میں سیاحوں کی آمدورفت کا سب سے بڑا مرکز بن جائے گا ۔ یہاں سفراء اور وزراء اور حکومتوں کے سربراہ آئیں گے ۔ اہم شخصیتوں کے پروگرام میں اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی ۔ مسلمان اس راز کو جان لیں تو موجودہ ” توڑ پھوڑ کو اپنے لئے عظیم تعمیرِ نو کی بنیاد بنا سکتے ہیں ۔ اس علاقہ کے دکان دار اگر اپنی دکانوں کو بین اقوامی معیار کے مطابق ترقی دیں اور بیرونی مہمانوں کی دل چسپی کی چیزیں فروخت کے لئے رکھیں تو وہ عالمی سطح پر اپنے خریدار پاسکتے ہیں آخری اہم ترین بات یہ ہے کہ اس علاقہ میں ایک اسلام بھون قائم کیا جائے ۔ یہاں اسلام کی تاریخی چیزیں رکھی جائیں اور ملک کی اور دیگر قوموں کی زبانوں میں اسلامی لٹریچر فراہم کیا جائے ۔ یہاں آنے والے سیاح اور بڑی بڑی شخصیتیں اس سے خصوصی دل چسپی لیں گی ۔ اور وہ نہ صرف تجارتی حیثیت سے کامیاب ہوگا بلکہ اسلام کی بین اقوامی اشاعت کا ایک اہم مرکز بن جائے گا ۔

جامع مسجد کا نیا منظر پیدا ہونے کے بعد خود دہلی کے غیر مسلم اور ملکی سیاح بڑی تعداد میں یہاں آنے لگے ہیں ۔ ان وای مدیونی وای شادی کی شعاعی سحرعی ثانی فرای مائی کی میں مدوری دغار تجد دی وی اسلام اور مسلمانوں کے لئے میرے اس ملک میں مستقر کھویا ہوا ہے اسلام اور مسلمانوں کے احیا میں سکون دیا ہے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page