Al-Risala · December 1976 · page 56

بقرہ - ۱۹۵

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۶

سوال : قرآن میں ہے کہ " اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ " یہ آیت مجھے بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ بظاہر اس میں ہلاکت اور خطرہ والے راستے سے بچ کر چلنے کی تعلیم ہے۔ مگر اسی کا نام تو ہلاکت ہے کہ آدمی خطرات کے راستے پر چلنے سے ڈرے اور رسک نہ لینا چاہئے۔ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا، تمام بڑی بڑی ترقیاں انہیں ملتی ہیں جو اپنے آپ کو جان جوکھوں میں ڈال کر اقدام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ زندگی کی اس حقیقت کو اسمعیل میرٹھی نے بڑی خوب صورتی سے دو شعروں میں بیان کر دیا ہے :

گھوڑ دوڑ میں کدائی کی باری تھی ایک دن ترکی پہ کوئی تازی پہ اپنے سوار تھا جو ہچکچا کے رہ گیا سورہ گیا ادھر جن نے لگائی ایڑ وہ خندق کے پار تھا جس قوم کا نظریہ یہ ہو کہ " خطرات سے بچ کر چلو ، " وہ قوم کبھی اونچی کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتی۔ جواب : زندگی کی حقیقت جو آپ نے بیان کی، وہ صد فی صد صحیح ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ رسک کے بغیر کوئی کامیابی نہیں ہوتی۔ مگر آیت کا جو مطلب آپ نے لیا، اصل مطلب اس کے بالکل برعکس ہے۔ پوری آیت یہ ہے : وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ إِلى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا ڈالو (کہ خرچ کرنے سے رک جاؤ) اور کام کو خوب اچھی طرح کرو۔

بقرہ - ۱۹۵

دین کی ضرورتوں میں اپنے جان و مال کو خرچ کرنا، اپنی ذاتی ضرورتوں میں کمی کیے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے کیا گیا کہ خواہ اپنی ذات کے لئے کمی کرنا پڑے، مگر دین کے لئے جد و جہد کو بہر حال جاری رکھو۔ کیوں کہ اجتماعی زندگی برباد ہو جائے تو فرد بھی اپنے آپ کو بربادی سے بچا نہیں سکتا۔ اسی لئے ان راہوں میں خرچ کرتے رہو جس سے اجتماعی زندگی طاقت ور ہوتی ہے اس آیت کے سلسلہ میں حضرت حذیفہ اور حضرت ابو ایوب انصاری کی روایت حدیث کی کتابوں میں آئی ہے جو اس کے مفہوم کو پوری طرح واضح کر دیتی ہے۔ ان کے نزدیک ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب ہے اپنے مال اور اپنے گھر میں بیٹھ رہنا اور جہاد کو چھوڑ دینا ( التهلکة الاقامة في الاهل والمال وترك الجهاد كشاف)

بخاری نے حضرت حذیفہ سے اس آیت کی مختصر شان نزول نقل کی ہے۔ اس کی صراحت حضرت ابو ایوب انصاری کی حدیث میں ہے جس کو ابو داؤد، ترمذی، حاکم، نسائی، ابن حبان وغیرہ نے روایت کہا ہے اور حاکم نے شرط شیخین پر اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں کہ ہم انصار لوگ جب کچھ لڑائیاں آنحضرت کی ہمراہی میں لڑ چکے تو ایک دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ اب تو رسول اللہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page