Al-Risala · December 1976 · page 58

بقرہ - ۱۹۵

الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۸

اسلامی مرکز کا مقصد، اسلام کا پیغام سارے انسانوں تک پہنچانا ہے۔

ختم نبوت کے بعد امت محمدی مقام نبوت پر ہے مسلمانوں کو اب قیامت تک ٹھیک وہی کام انجام دینا ہے جس کے لئے اس سے پہلے پیغمبر آتے تھے۔ پیغمبر اپنے رب کے یہاں صرف اس وقت بری الذمہ ہو سکتے تھے جب کہ وہ اس پیغام کو اپنے تمام مخاطبین تک پہنچا دیں جو ان کو وحی آسمانی کے ذریعے دیا گیا ہے۔ اسی طرح امت محمدی کی نجات کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ قوموں کے سامنے خدا کے دین کی گواہ بن کر کھڑی ہو، وہ لوگوں کو آنے والے یوم الحساب سے آگاہ کرے۔ اگر امت اس دعوتی ذمہ داری کو ادا نہیں کرتی تو کوئی بھی دوسری چیز اس کو نجات دینے والی نہیں بن سکتی، نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔

پیغام آخرت کا حامل ہونے کی حیثیت سے مسلمانوں کی لازمی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ دوسری قوموں سے وہ دنیوی مفادات کے لئے کش مکش کرنے سے مکمل پر ہیز کریں۔ ان کے ساتھ حق تلفی کی جائے جب بھی اپنے دنیوی مسائل کے سلسلے میں ان کے لئے واحد صحیح رویہ ”صبر“ ہے۔ یعنی خود اپنی تعمیری کوششوں پر بھروسہ کرنا۔ دوسروں کے خلاف احتجاج اور مطالبات کی مہم چلانے کے بجائے اپنے خدا داد مواقع میں اپنے لئے رزق تلاش کرنا۔ مسلمانوں کے لئے دوسری تمام قومیں مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں ان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے کسی عمل سے ان کو اپنا سیاسی اور معاشی حریف بنالیں۔ انہیں ان قوموں کو دعوت حق کا مخاطب بنانا ہے، نہ یہ کہ دنیوی مسائل کے نام پر ان سے جھگڑا کر کے ان کو اپنے سے دور کر دیا جائے۔

اسلامی مرکز کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اصل ذمہ داری کے لئے تیار کیا جائے اور موجودہ زمانہ کے تقاضوں کے لحاظ سے خدا کے پیغام کو اس کے تمام بندوں تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues

Printed page