بقرہ - ۱۹۵
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۵۹
مسجدیں عالم اسلامی کی نگہبان ہیں۔ مغلوں نے تیرھویں صدی عیسوی میں مشرق کی جانب سے عالم اسلام پر حملہ کیا اور اس کے بڑے حصے کو تاراج کر ڈالا۔ مگر وہی مسجدیں جن کو ہلاکو نے سمرقند سے حلب تک اپنے راستہ میں تباہ کیا تھا، اس کے پوتوں نے دوبارہ ان کی تعمیر کی اور ان کی چھتوں کے نیچے خدائے واحد کے آگے سجدہ کیا۔ مسجد ایک قسم کا دارالاسلام ہے۔ وہ اللہ کی یاد کی جگہ ہے۔ وہ اسلامی اتحاد کا مرکز ہے، وہ مسلمانوں کے اعتماد علی اللہ کا نشان ہے۔ جب اسلام زندہ تھا تو مسجد صرف مسجد نہ تھی بلکہ وہاں اسلامی زندگی کے تمام شعبے قائم ہوتے تھے۔ مثلاً عبادت گاہ، مدرسہ، دار القضاء، اجتماع گاہ، اسپتال کتب خانہ، مسافر خانہ، تبلیغی مرکز، مقام مشورہ و غیره ــــــ اسلامی مرکز میں ہم چاہتے ہیں کہ مسجد کو دوبارہ اس کی اصل حیثیت میں زندہ کریں۔
راقم الحروف نے ہفت روزہ الجمعیۃ ۲۷ نومبر ۱۹۷۰ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں مسلمانوں کی پچھلی ڈیڑھ سو سالہ کوششوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا گیا تھا کہ اس مدت میں بے شمار بڑی بڑی تحریکوں کے وجود میں آنے کے باوجود اسلام کو زندہ نہ کیا جا سکا۔ اس سلسلہ میں تجزیہ کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ اس ناکامی کی واحد بڑی وجہ یہ تھی کہ ہمارے مصلحین کی کوششوں کا رخ تعمیر کے بجائے سیاست کی طرف رہا۔ آخر میں یہ تجویز درج تھی :
"موجودہ حالات میں احیائے اسلامی کے کام کا آغاز جہاں سے ہونا چاہئے، اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ اعلیٰ پیمانہ پر ایک اسلامک سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ یہ اسلامک سنٹر ہر قسم کے عصری ذرائع سے اس قدر مسلح ہو کہ وہ تمام مسلمانوں کے لئے پاور ہاؤس کا کام دے۔ وہ اسلامی بھی ہو اور عالمی بھی اور جدید بھی۔ (صرف ایک استثناء کے ساتھ: وہ کسی بھی معنی میں سیاسی نہ ہو)"
اس تجویز کو پچھلے چھ برسوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ یہ پورا مضمون عربی میں ترجمہ ہو کر ۳۴ صفحات کے کتابچہ کی شکل میں قاہرہ اور بیروت سے شائع ہوا اور اس کے متعدد ایڈیشن نکل گئے۔ علمی و دینی جرائد میں اس کے بارے میں نہایت حوصلہ افزا تبصرے شائع ہوئے ۔
اب مختلف حضرات کے شدید اصرار پر اسلامی مرکز کا قیام عمل میں آگیا ہے۔ الرسالہ اسی کے ترجمان کے طور پر نکالا جا رہا ہے۔ تاہم سب سے بڑا مسئلہ اس کے لئے جگہ کی فراہمی ہے۔ فی الحال عارضی طور پر اس کا دفتر ایک مکان میں رکھا گیا ہے۔ مگر اس کی وسعت اور اہمیت کے اعتبار سے ضروری ہے کہ اس کے لئے مستقل عمارت ہو جہاں اس کے تمام شعبوں کو زیر عمل لایا جاسکے ۔
بہتر یہ ہے کہ یہ مرکز کسی مسجد کے ماحول میں قائم ہو کوئی قدیم مسجد ہو تو اس کے گرد و پیش کمرے تعمیر کرائے جائیں اور اگر خالی جگہ ملے تو وہاں مسجد کے ساتھ ضروری تعمیرات کرائی جائیں۔ اس سلسلے میں جو لوگ کسی قسم کا تعاون کر سکتے ہوں وہ تفصیلات سے مطلع فرمائیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues