مسیح الدین احمد ایم اے
الرسالہ، دسمبر ۱۹۷۶، صفحہ ۶۰
داعی نہ سیاح ہوتا نہ شعبدہ باز، وہ اپنے مدعو گروہ کے درمیان اسی طرح کام کرتا ہے جس طرح ایک باغبان اپنے باغ میں مکرمی جناب ایڈیٹر صاحب تسلیم الرسالہ کا پہلا شمارہ نظر سے گزرا۔ رسالہ میں کئی مضامین جزوی یا کلی طور پر محل نظر ہیں۔ لیکن اس وقت خاص طور پر " سوال و جواب " کے حصے کے متعلق کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے جناب والا اگلے شمارے میں وضاحت فرمائیں گے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ " مسلمانوں کا کوئی الگ کلچر ہی نہیں " اور " داعی کے مشن کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے مدعو سے کلچرل یگانگت پیدا کیے نہ کہ کلچرل بے گانگی " اگر مندرجہ بالا اصول کو تسلیم کر لیا جائے تو ان احادیث کی آپ کی نظر میں کیا حیثیت ہے جن میں تشبہ بالیہود سے منع فرمایا گیا ہے۔ ثانیاً کیا داعی اور مدعو کے کلچرل یگانگت کا تقاضا یہ بھی ہو گا کہ اگر کسی " برہنہ کلیپ " کے ممبر یا ایسے شخص کو دعوت دینی ہو جو عورتوں کی طرح سر پہ کیا میں امید کروں کہ قارئین کے استفادہ کے لئے آپ ان امور کا مبسوط جواب آئندہ شمارے میں شریک اشاعت فرمائیں گے ۔
مسیح الدین احمد ایم اے
بٹلا ہاؤس، جامعہ نگر، نئی دہلی الرساله : " کلچرل یگانگت" کی بات ہم نے اس لفظ کے اجمالی مفہوم میں کہی ہے نہ کہ انتہائی مفہوم میں ۔ اور یہ زبان و ادب کا عام طریقہ ہے ۔ پیغمبروں کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے تھے ( فرقان ۔ ۲۰) ظاہر ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا کام بس یہ تھا کہ کھانا کھائیں اور بازاروں میں چلتے رہیں ۔ اسی طرح اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اکل طعاماور مشی فی الاسواق کی تمام رائج قسموں میں ہر اعتبار سے وہ مکمل طور پر چوٹی رکھتا ہو تو کیا ان سے بھی داعی کو کلچرل یگانگت پیدا کرنی چاہئے ۔ نیز یہ کہ یکے بعد دیگرے اگر مختلف کلچرل گروہوں کو دعوت پیش کرنی ہو تو کیا داعی کو بار بار اپنی وضع قطع میں تبدیلی کرنا پڑے گی ۔
ایک اور بات وضاحت طلب ہے ۔ اور وہ یہ کہ سورہ انعام کی آیت ۹ کے ترجمے میں آپ نے ”لباس پہنانے کا جو مفہوم شامل کیا ہے ۔ کیا تمام مفسرین خلف و سلف اس کا ترجمہ اسی طرح کرتے آئے ہیں یا یہ آپ کی ذاتی تحقیق ہے ؟
دوسروں کی مانند تھے ۔ بات خواہ عمومی الفاظ میں ہی جائے، وہ ہمیشہ کسی خاص مفہوم ہی میں ہوتی ہے، اور موقع کلام اس کے حدود کو متعین کرتا ہے۔ وہ چیزیں جو شریعت میں حرام ہیں، مثلاً برہنگی، وہ ہمارے مسلمہ عقیدہ کے مطابق خود بخود یگانگت کے عموم سے خارج ہو جائیں گی۔ اسی طرح جو چیزیں کسی گروہ کا مذہبی شعار ہوں، مثلاً صلیب کا نشان ، ان میں بھی یگانگت کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ہر مذہب کے اپنے مخصوص مذہبی شعار ہوتے ہیں اور کوئی مذہب
‹ Previous page Next page › Contents of December 1976 All issues