دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۱۵
نئے حالات نے مذہب کو پھیلانے کا نیا دروازہ کھول دیا ہے سفر کی سہولتوں نے موجودہ زمانہ ہیں بین الالاقوامی سیاحت کو ایک مستقل انڈسٹری بنا دیا ہے۔ آج جو لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک میں سفر کرتے ہیں، ان میں بڑی تعداد سیاحوں کی ہوتی ہے۔ ہندوستان میں پچھلے چند برسوں کے اعداد و شمار کا جو تجزیہ کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کے اندر آنے والے سیاحوں میں تنہائی کی تعداد میں وہ لوگ تھے جن کی عمریں ۷ سال اور ۳۰ سال کے درمیان تھیں۔ ان میں بھی ۲۷ فی صد وہ نوجوان تھے جو اپنے اپنے ملکوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ سیاحت کی دنیا میں ایک نئی چیز ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے اس قسم کی سیاحت کے لئے زیادہ تر بوڑھے لوگ نکلا کرتے تھے۔ سیاحوں کی فہرست میں نوجوانوں کا اضافہ بہت معنی خیز ہے۔ جوانی کا زمانہ جوش و خروش کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں زندگی امنگوں اور حوصلوں سے لبریز ہوتی ہے۔ وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ نوجوان، قدیم سیاحوں سے مختلف ہیں اور کچھ نئی چیزوں کے طالب ہیں۔ قدیم سیاح آرام دہ ہوٹل، ائیر کنڈیشنڈ، کار اور کھانے پینے کے عمدہ انتظام کا مطالبہ کرتے تھے۔ یہ نوجوان سیاح ان چیزوں کی پرواہ نہیں کرتے وہ اوسط درجہ کے انتظام پر بالکل مطمئن ہو جاتے ہیں۔ وہ آرام اور فیشن کی تلاش سے زیادہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے لئے ڈاکومنٹری فلم، کلچر اور تعلیم یافتہ گائیڈ کا انتظام ہو، جوان کے ملک کی تہذیبی وراثت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات دے سکے۔
اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک اخبار نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا: "یہ نئے قسم کے سیاح محض تماش میں نہیں میں جو وقت گزاری کی خاطر یہاں آتے ہیں۔ ان کے اندر علم کی پیاس ہے۔ وہ ہندوستان کے آرٹ اور کلچر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ " انڈین ایکسپریس، ۸ مارچ ۱۹۷۲ یہ دراصل اس عام رَو، کا ایک نمونہ ہے جو ساری دنیا میں نئی نسل کے اندر پیدا ہو گیا ہے۔ آج کی نئی نسل، خاص طور پر ترقی یافتہ ملکوں کی نئی نسل، اپنے ماحول سے غیر مطمئن ہے۔ یہ ماحول اس کو مادی مواقع دیتا ہے۔ مگر اس کے ذہنی اور روحانی سوالات کا جواب اس میں نہیں ملتا۔ چنانچہ جدید دنیا میں عام طور پر ماضی کی طرف دیکھنے کا ذہن ابھر رہا ہے جب کہ انسانی سماج مشین کی پیدا کردہ الجھنوں سے پاک تھا۔ آج کا انسان یہ سمجھتا ہے کہ جس سوال کا جواب حال میں موجود نہیں، اس کا جواب شاید ماضی کے خزانہ میں اسے مل جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق میں مغربی سیاحوں کی آمد بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مشرق میں وہ ماضی ابھی تک محفوظ ہے جو مغرب میں بڑی حد تک ضائع ہو چکا ہے۔ اس صورت حال نے مذہب کی تبلیغ واشاعت کا ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔ مزید یہ کہ بین اقوامی سیاحی نے مدعو کو خود داعی کے پاس پہنچا دیا ہے۔ جن لوگوں کو پانے کے لئے ہمیں سمندر پار کا سفر کرنا پڑتا وہ خود ہمارے قریب آکر کھڑے ہو گئے ہیں۔ مگر داعیوں کا حال یہ ہے کہ مسلم تاریخی مقامات پر آنے والے سیاحوں کو وہ اپنے لئے تجارت کا مال سمجھتے ہیں، نہ کہ دعوت کا موضوع۔ دہلی کی جامع مسجد میں نماز کے اوقات میں ان کے لئے داخلہ ممنوع ہے۔ حالاں کہ اس وسیع مسجد میں اگر نماز کے وقت غیر مسلم آئیں اور قرآن کے بتائے ہوئے طریق عبادت کو دیکھیں تو یہ ان کو اللہ کا پیغام پہنچانے کے ہم معنی ہوگا اور اس حکم خداوندی کی تعمیل ہوگی جو سورہ تو بہ آیت ۶ میں بیان کیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues