Al-Risala · October 1976 · page 20

A Spiritual Turn To American Life

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۰

دور صحابہ کے طرز کے مدرسے تعلیمات اسلامی کا ایک ادارہ قائم کرنے کی ضرورت سر آر تھر کیتھ (۱۹۵۵ - ۱۸۶۶) نے مصر کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے لکھا ہے "مصر کو مسلمانوں کی تلوار نے فتح نہیں کیا بلکہ قرآن نے فتح کیا"۔ یہی بات ایشیا اور افریقہ کے اس پورے خطے کے لیے صحیح ہے جس کو آج ہم اسلامی دنیا کے نام سے جانتے ہیں۔ ایسا کیوں کر ہوا کہ یہ ساری قو میں نہ صرف اپنا مذہب بلکہ زبان تک بدل کر اسلامی برادری میں شامل ہو گئیں۔ جواب یہ ہے کہ مدرسوں کے ذریعہ۔ دور اول کے مسلمان عرب سے نکل کر اطراف کے تمام ملکوں میں پھیل گئے۔ انھوں نے اپنی اسلامی مہم کے مرکز کے طور پر جگہ جگہ اسلامی مدرسے قائم کئے ۔ ان مدرسوں میں لوگوں کو عربی زبان سکھائی جاتی تھی اور قرآن و حدیث پڑھایا جاتا تھا۔ ان مدرسوں سے جو لوگ پڑھ کر نکلتے ، وہ اپنی اپنی بستیوں میں جا کر دوبارہ اسی قسم کے ادارے قائم کرتے ۔ مدرسوں کو بنیاد بنا کر کام کرنے کا یہی طریقہ تھا جس نے ایک سو برس کے اندر اندر اس وقت کی آباد دنیا کے بڑے حصے کے مذہب، تہذیب اور زبان کو بدل ڈالا۔

قرآن ایک دائمی معجزہ ہے۔ خالق کائنات نے اس کے ذریعے اپنے بندوں سے کلام کیا ہے وہ اس دنیا میں خدا اور بندہ کا مقام اتصال ہے ، وہ دلوں کو گرماتا ہے اور شعور کو بیدار کرتا ہے۔ اس کے اعلیٰ مضامین اور اس کا آسمانی ادب اتنا اثر انگیز ہے کہ جو شخص بھی قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے ، اس کی صداقت کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسول کی زندگی اور آپ کے اصحاب کے حالات انسانی تاریخ کا انتہائی حیرت ناک انقلابی واقعہ ہیں جو زندگیوں کو گرمانے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ دور اول کے مدرسے بس انہی چیزوں کو زندہ کرنے کے ادارے تھے ۔ وہ سادہ طور پر عربی زبان سکھا کر آدمی کو قرآن و حدیث سے وابستہ کر دیتے تھے ۔ اس کے بعد آدمی ایمان اور حرارت کے ان خزانوں سے براہ راست اپنا دین اخذ کرنے لگتا تھا۔ علم دین اس کے لئے صحبت رسول اور صحبت صحابہ کے ہم معنی بن جاتا تھا۔ خدا کی کتاب اس کی فطرت کو جگاتی تھی۔ رسول اور آپ کے اصحاب کی انقلابی زندگیاں اس کے سینہ میں عمل کی آگ بھر دیتی تھیں۔ اس طرح زندہ انسانوں کی وہ فوج تیار ہوتی تھی جو خدا کے لئے جینے اور خدا کے لئے مرنے کے سوا کوئی اور بات اس دنیا میں نہ جانتی تھی۔

آج ہمارے یہاں پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں مدرسے قائم ہیں مگر آج ان مدرسوں کا وہ فائدہ ظاہر نہیں ہو رہا ہے جو دور اول میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مدرسے اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے اس سے بالکل مختلف ہیں جو صحابہ و تابعین نے قائم کئے تھے۔ موجودہ زمانہ کے مدرسوں میں تعلیم دین کو ایک فن بنا دیا گیا ہے۔ قرآن اس لئے اترا کہ اس کو پڑھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوں اور ان کے دل خدا کی یاد سے دہل اٹھیں۔ مگر ان مدرسوں کے نصاب میں قرآن کو صرف ضمنی مقام حاصل ہے۔ رسول کی زندگی اور صحابہ کے حالات جو تاریخ انسانی میں آتش فشاں کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو سرے سے پڑھایا ہی نہیں جاتا۔ احادیث و آثار کا مقام ہمارے مدارس میں صرف یہ ہے کہ ان کو عنوان بنا کر جزئیات فقہ کے کچھ خود ساختہ مسائل پر لامتناہی بحثیں جاری رکھی جا سکیں اسی کے ساتھ " علوم آلیہ" کے نام پر جو فنون پڑھائے جاتے ہیں وہ اتنے فرسودہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page