A Spiritual Turn To American Life
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۱
ہیں کہ ذہن کو جمود اور لایعنی موشگافیوں کا عادی بنانے کے سوا کوئی دوسری خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ اسلامی مدرسہ کی فضا کو اللہ کی بڑائی کے چرچے سے معمور رہنا چاہیے۔ ۔ مگر ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے زوال کی جس سطح پر ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک نے اپنے کچھ بزرگ اور اکابر بنا رکھے ہیں اور مدرسہ کی تمام سرگرمیاں بس انھیں بزرگوں کی کبریائی کا سبق دینے کے لئے وقف رہتی ہیں ۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ یہاں لوگوں کو ایمانی حرارت کا سبق ملے ، یہاں اعلیٰ انسانی کردار ڈھلیں۔ یہاں خدا و آخرت کی تڑپ رکھنے والے لوگ پیدا ہوں ، یہاں سے اسلام کا وہ سیلاب اٹھے جو دور اول کے مدرسوں سے اٹھا تھا اور ایک عالم پر چھا گیا تھا۔
ضرورت ہے کہ دوبارہ دور اول کے طرز کے مدرسے قائم ہوں اور ان کو بنیاد بنا کر اصلاح امت کا کام کیا جائے۔ ان مدارس کا نصاب بالکل سادہ اور غیر فنی ہونا چاہیے۔ ۔ موجودہ حالات کے لحاظ سے ہم اس کو چار مرحلوں پر تقسیم کر سکتے ہیں :
پہلا مرحلہ: عربی زبان اور قرآن 2 چُور در دنده، اور اس پر ٹوکرا دوسرا مرحلہ : حدیث ، سیرت رسول ، حالات صحابہ ، اسلامی تاریخ وغیرہ ( عربی زبان میں ) تیسرا مرحلہ : عالمی زبانیں ، دیگر مذاہب اور ان کی تاریخ۔ فلسفہ جدید ، ضروری سائنسی معلومات چوتھا مرحلہ : اختصاصی مطالعہ کسی ایک اسلامی موضوع پر ( عربی میں ایک مقالہ تیار کرنا ) اس قسم کا ایک مدرسہ اعلیٰ معیار پر قائم ہو جائے تو بلاشبہ وہ دور جدید کا سب سے بڑا کام ہوگا ۔ اصل کام علوم قرآنی کو زندہ کرنا ہے اس بو العجبی پر ہمیشہ ماتم کیا جائے گا کہ تمام علوم اسلامیہ کے درس و تدریس کا اصل مقصود قرآن تھا اور سب کے سب اس کے لئے بمنزلہ آلات و وسائل تھے۔ مگر اجرامِ سماوی کا مطالعہ کرنے والا دوربین کے بنانے میں ایسا غرق ہوا کہ اسے آسمان کی طرف نظر اٹھانے کی مہلت ہی نہ ملی یعنی معقولات اور فلسفہ و کلام اصل مقصود بن گئے اور قرآن اور علوم قرآن بالکل نظر انداز کر دیئے گئے پھر یہ حالت یہاں تک بڑھی کہ یہ سمجھنا مشکل ہو گیا کہ ہمارے مدارس کا اصل مقصود کیا ہے ۔ ارسطو اور اس کے بہت بعد کے کج فہم ترجمانوں کی پرستش یا قرآن حکیم و حدیث نبوی کا فہم و درس (ہمارے مدارس میں) معقولاتِ قدیم کے لئے تو متونِ وشروح کے بوجھ سے دماغوں کو کچلا جاتا ہے۔ مگر قرآن اور علوم قرآن کے لئے صرف جلالین و بیضاوی کے چند اجزا ہی کافی سمجھ لئے گئے آزاد ہیں۔ اور پھر کیا ان کتابوں کے ذریعے قرآن اور علوم و معارف قرآن سے کوئی حقیقی مناسبت پیدا ہو سکتی ہے چند معاصرین فیروز شاہ تغلق . شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی سلطان محمد شاہ بہمنی . شیخ زین الدین شہنشاہ بابر . شیخ عبد القدوس گنگوہی شہنشاہ اکبر . ملا عبد النبی شہنشاہ جہانگیر . شیخ احمد سرہندی احمد شاہ ابدالی . شاہ ولی اللہ دہلوی نظام حیدر آباد . شیخ حسین احمد مدنی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues