ہمال ورق کہ سیہ گشته مدعا ایں جا است
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۲
پچاس برس پہلے کی بات ہے جب کہ ساری دنیا میں یورپ کی مسیحی قوموں کا غلبہ ۔ قاہرہ کے ایک عیسائی مشنری مسٹر واٹسن سے ایک شخص نے پوچھا: کتنے دنوں سے آپ مسیحی تبلیغ کے میدان میں کام کر رہے ہیں۔ "پچاس سال سے" پادری نے جواب دیا۔ "اتنے دنوں میں کتنے مسلمانوں نے عیسائیت کو اختیار کیا۔ " اس کا اگلا سوال تھا۔ "تقریباً ڈیڑھ سو" پادری نے کہا۔ اور پھر فوراً ہی بولا: "مگر پھر بھی آپ کو خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ "
سوال کرنے والے کے لئے پادری کا یہ جملہ غیر متوقع تھا۔
ہمال ورق کہ سیہ گشته مدعا ایں جا است
افریقی ریاست گابون کے صدر البرٹ برنارڈ بانگو (پیدائش ۱۹۳۵) نے ستمبر ۱۹۷۳ء میں اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح کی خبریں مسلسل آتی رہتی ہیں جب کہ نہ صرف عوام بلکہ ممتاز افراد اسلام کی صداقت کا اعتراف کرتے رہتے ہیں مسٹر نشیشی تتا کا جاپان کے محکمہ پولیس کے ڈائرکٹر تھے۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ سیاست میں داخل ہوئے اور جاپانی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ اکتوبر ۱۹۷۵ء میں وہ ٹوکیو کے اسلامی مرکز میں آئے اور کلمہ شہادت پڑھ کراپنے اسلام کا اعلان کیا۔ مسٹر ٹامسن امریکہ کے ۳۱ سالہ صحافی ہیں، انھوں نے فارسی زبان سیکھی ہے۔ فل برائٹ اسکالرشپ کے تحت وہ ایک سال سے افغانستان میں ہیں اور مولاناروم کی مثنوی کا انگریزی زبان میں ترجمہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے قرآن کا ترجمہ پڑھا تھا اور اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کیا ۔ وہ اسلام سے متاثر ہو گئے۔ ۱۶ اپریل ۱۹۷۶ء کو وہ اجمیر میں مسلمان ہو گئے ۔ ان کا اسلامی نام معین الدین ٹامس رکھا گیا۔ شاہجہانی مسجد درگاہ خواجہ صاحب میں مولانا محمد یحییٰ صاحب نے ان کو کلمہ شہادت پڑھایا۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے بے شمار تحریکیں اٹھائیں۔ حتیٰ کہ ان کی تحریکوں کے غلغلہ سے فضائے آسمانی گونج اٹھی۔ مگر وہی ایک کام انھوں نے نہ کیا جو ان کے خدا نے سب سے زیادہ ان پر فرض کیا تھا یعنی اللہ کے دین کو اس کے تمام بندوں تک پہنچانا۔ تا ہم مسلمانوں کی کسی کوشش کے بغیر دین فطرت لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہ دنیا میں کہیں نہ کہیں یہ واقعہ پیش نہ آتا ہو کہ اللہ کے بندے اللہ کے دین کو قبول کر کے اس میں داخل نہ ہو رہے ہوں مسلمانوں کو تو یہ توفیق بھی نہ ہو سکی کہ وہ کوئی ایسی ایجنسی
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues