Al-Risala · October 1976 · page 23

لطیفہ

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۳

قائم کرتے جو ان نو مسلموں کے اعداد و شمار جمع کر کے شائع کرتی ، البتہ عالمی ادارہ مذہب (World Religions institute) نے حال میں کچھ اعداد و شمار شائع کئے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۷۱ء سے ۱۹۷۶ء تک کے پانچ سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ آدمیوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ اعداد و شمار صرف یورپ اور امریکہ سے متعلق ہیں۔ افریقہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی اور عیسائی مشنریوں کی غیرمعمولی جدوجہد کے باوجود عیسائی بننے والوں کے مقابلے میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ السٹریٹڈ ویکلی کے ایڈیٹر مسٹر خوشونت سنگھ نے اپنے افریقی دورہ کے تاثرات کے ذیل میں لکھا تھا : کینیا اور یوگنڈا کے اپنے آخری سفر میں نے عیسائیوں اور مسلمانوں کی ان تبلیغی کوششوں کا جائزہ لیا جو نیگر و قبائل کے درمیان جاری ہیں۔ عیسائیوں نے تسلیم کیا کہ مسلم عرب بردہ فروشوں کی ناخوش گوار یادوں کے باوجود افریقہ کے سیاہ فام باشندوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد عیسائی بننے والوں سے زیادہ ہے ۔ “ (السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا۔ ۷ جولائی ۱۹۷۶ء ، صفحہ ۲۷) اگرچہ ہمارے پاس قطعی اعداد و شمار دیا۔ وہیں ہیں تاہم یہ اندازہ مبالغہ آمیز نہیں کہ آج بھی کسی خاص تبلیغی کوشش کے بغیر دنیا بھر میں جو لوگ مسلمان ہو رہے ہیں ان کی تعداد سالانہ دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ اگر ان نو مسلموں سے روابط قائم کئے جائیں اور ان سے معلوم کیا جائے کہ اسلام کی کون سی خصوصیت نے انہیں متاثر کیا اور پھر ان معلومات کی روشنی میں عالمی سطح پر اسلام کی اشاعت کی منصوبہ بندی کی جائے تو صرف دس برس میں اسلام کی سر بلندی کا وہ خواب پورا ہو سکتا ہے جس کو دوسری راہوں سے دو سو برس سے حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر وہ حاصل نہیں ہوتا۔

لطیفہ

شیخ سعدی شیرازی (۱۲۹۲ - ۱۱۹۳ء) کی عمر کا بیشتر حصہ بے سر و سامان درویشوں کی طرح سفر میں گزرا۔ ایک مرتبہ دمشق میں تھے، وہاں کے لوگوں سے کسی بات پر ناراضگی ہوئی تو فلسطین کے بیابان میں چلے گئے ۔ یہ صلیبی جنگوں کا زمانہ تھا۔ وہاں عیسائیوں نے ان کو پکڑ لیا اور طرابلس الشرق (لبنان) کے علاقہ میں خندق کھودنے کے کام پر دوسرے قیدیوں کے ساتھ لگا دیا۔ نہ خاموشی کے ساتھ اس مشقت کو برداشت کرتے رہے۔ مدت کے بعد حلب کا ایک معزز آدمی اس طرف سے گزرا۔ وہ شیخ سعدی کو جانتا تھا، انھیں اس حال میں دیکھ کر اس کو بہت افسوس ہوا۔ دس دینار دے کر شیخ کو قید فرنگ سے چھڑایا اور اپنے ساتھ حلب لے گیا۔ وہاں عزت کے ساتھ اپنے گھر رکھا اور مزید عنایت یہ کی کہ اپنی ناخுتڈ بیٹی سے ان کا نکاح ایک سو دینار مہر موجل پر کر دیا۔ مگر بیوی سخت بد مزاج اور تیز زبان نکلی۔ اس نے شیخ کو بے حد پریشان کر دیا۔ ایک روز طعنہ دیتے ہوئے کہا: ” تم وہی ہو جس کو میرے باپ نے دس دینار میں خریدا تھا۔ “ شیخ سعدی نے فوراً جواب دیا:

”ہاں میں وہی ہوں جس کو آپ کے باپ نے دس دینار میں خریدا اور سو دینار میں آپ کے ہاتھ بیچ ڈالا۔“

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page