بدلتی ہوئی دنیا
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۴
بدلتی ہوئی دنیا
موجودہ صدی کی آٹھویں دہائی نے حیرت انگیز تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ پیٹرول کی طاقت، جس کا تین چوتھائی حصہ اسلامی دنیا کی زمین کے نیچے ہے۔ اس نے ظاہر ہو کر دنیا کا اقتصادی اور سیاسی نقشہ بالکل بدل دیا ہے۔ امریکہ اپنی خارجہ سیاست بدلنے پر مجبور ہو گیا، جاپان کی معجزانہ صنعتی ترقی ٹھپ ہو گئی۔ برطانیہ جو کبھی شرق اوسط کا حکمراں تھا، آج شرق اوسط کے ملکوں سے قرض لے رہا ہے، وغیرہ۔ ”ساتویں صدی عیسوی میں جبکہ اسلامی فوجیں عرب جزیرہ نما پر چھا گئیں تاکہ وہ محمؐد کے پیغام کو پھیلائیں“۔ نیوز ویک (نیو یارک) نے ۱۸ فروری ۱۹۷۹ء کے ایک خصوصی مضمون میں لکھا ”اس کے بعد عربوں نے اپنی تاریخ میں پہلی بار اس قسم کی کامیابی حاصل کی ہے۔ کسی زمانے میں اگر تمام سڑکیں روم کو جاتی تھیں تو آج تمام سڑکیں ریاض کو جارہی ہیں جہاں ہر روز مغربی قوموں کے نمائندے اتر رہے ہیں تاکہ وہ جدید دنیا کے قارون (شاہ فیصل) سے ملاقات کر سکیں“ اس قسم کی باتیں لکھتے ہوئے امریکی میگزین نے اعتراف کیا تھا :
The mountain, at last, is coming to Mohammad
اس جملہ کا پس منظر یہ ہے کہ صلیبی جنگوں کے بعد جب یورپ کی مسیحی قوموں نے پیغمبر اسلام کو ”جھوٹا پیغمبر“ ثابت کرنے کے لئے فرضی قصے گھڑنے شروع کئے تو اُنھیں میں سے ایک بناوٹی کہانی وہ تھی جو اتنی پھیلی کہ مغربی لٹریچر میں بطور ضرب المثل مشہور ہو گئی۔ فرانس بیکن (۱۵۶۱ - ۱۲۶۱) نے اپنے مضمون جرات (Boldness) میں لکھا ہے ” ایک جری آدمی محمد جیسے معجزے بار بار دکھا سکتا ہے۔ محمد نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ ایک پہاڑ کو اپنے پاس بلائیں گے اور وہ ان کے پاس آجائے گا۔ لوگ اس معجزے کو دیکھنے کے لئے جمع ہوئے۔ محمد نے پہاڑ کو اپنے پاس آنے کے لئے کہا۔ وہ بار بار پکارتے رہے۔ جب پہاڑ بدستور اپنی جگہ کھڑا رہا تو وہ ذرا بھی نہ شرمائے۔ اب انھوں نے کہا: اگر پہاڑ محمد کے پاس نہیں آیا تو محمد تو پہاڑ کے پاس جاسکتے ہیں“۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں تیزی سے ایک تبدیلی آرہی ہے۔ اور اگر ہم گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اس تبدیلی کا رخ کھلے طور پر اسی منزل کی طرف ہے جس کو امریکی میگزین نے لطیفہ کے طور پر ان لفظوں میں ظاہر کیا ہے۔ ”پہاڑ بالآخر محمد کی طرف آرہا ہے“۔
پہلی انجمن اقوام، ۱۹۲۰ میں جنیوا میں قائم ہوئی تو روس اور امریکہ ابتداءً اس کے ممبر نہ ہو سکے تھے۔ دوسری بار ۱۹۴۵ میں اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تو اس کا چارٹر ماسکو میں تیار کیا گیا اور امریکہ اس کا مستقل صدر مقام بنا۔ اب اگرچہ کسی نئی عالمی تنظیم کے وجود میں آنے کا بظاہر امکان نہیں، تاہم اقوام متحدہ کا ادارہ تیزی سے تیسرے انقلاب کی طرف جارہا ہے اقوام متحدہ کے ابتدائی قیام کے وقت یہ صورت حال تھی کہ ایشیا اور افریقہ کے بیشتر حصہ پر مغربی طاقتیں قابض تھیں اور وہی ان کی سیاسی نمائندہ بنی ہوئی تھیں۔ اس طرح عالمی برادری کی تنظیم میں مغربی طاقتوں کو غلبہ حاصل ہو گیا۔ افریشیائی قوموں کو آزادی ملی تو ایک تیسری دنیا وجود میں آئی اور عالمی تنظیم میں اس کی بڑھی ہوئی نمائندگی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان قوموں کو اکثریت دے دی جو اقوام متحدہ کے قیام کے وقت براہ راست نمائندگی سے محروم تھیں۔ ۱۹۴۵ میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues