The mountain, at last, is coming to Mohammad
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۵
اقوام متحدہ کے اکیادن ممبر تھے ۔ ۱۹۶۵ء میں ان کی تعداد ۱۲۰ ہو چکی ہے۔ اس طرح قدیم توازن ٹوٹنے لگا۔ ۱۹۷۱ ء میں جب امریکہ کی مرضی کے خلاف فارموسا کے بجائے کمیونسٹ چین کو چین کا نمائندہ تسلیم کیا گیا تو ظاہر ہو گیا کہ اب عالمی سیاست میں مغربی طاقتوں کا کلی غلبہ ختم ہو رہا ہے۔ پھر اکتو بر ۱۹۷۳ء کی عرب۔ اسرائیل جنگ کے بعد عربوں کی طرف سے تیل کے جزوی بائیکاٹ اور تیل کی قیمت میں اضافہ نے اس عمل کو آخری مقام پر پہنچا دیا اور یہ نوبت آ گئی کہ سلامتی کونسل کے علاوہ اقوام متحدہ کے تمام دوسرے اجلاسوں میں مغربی طاقتوں کے علی الرغم عربوں کے حق میں فیصلہ ہونے لگے۔ امریکہ نے دھمکی دی کہ ’’بلیک ووٹنگ‘‘ کا سلسلہ جاری رہا تو وہ سخت کارروائی کرے گا۔ جب یہ دھمکی کار گر نہ ہوئی تو ستمبر ۱۹۷۵ء میں امریکہ نے یونیسکو کو دی جانے والی ۲۲ ملین ڈالر سالانہ کی امداد روک دی۔ کیونکہ اس ادارہ سے اسرائیل کو نکال دیا گیا تھا۔ مگر اس کے بعد جو ہوا وہ صرف یہ کہ عربوں نے اس کے فوراً بعد یونیسکو کو ۲۵ ملین ڈالر دینے کا اعلان کر دیا۔ عالمی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ عربی کا اقوام متحدہ کی چھٹی سرکاری زبان قرار دیا جانا اور عربوں کے مقابلے میں اسرائیل اور اس کے حلیف امریکہ کا احتجاجی پوزیشن میں پہنچ جانا بتاتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب کہ اقوام متحدہ کا ’’مغرب‘‘ کے بجائے ’’مشرق‘‘ کی طرف ہو جائے ۔
عربی زبان نئی اہمیت اختیار کر رہی ہے بیروت عربوں کے لئے چھٹیاں گزارنے کا مقام تھا۔ بیروت کی غیر یقینی صورت حال کے بعد بمبئی نے کم از کم عارضی طور پر یہ حیثیت حاصل کر لی ہے۔ جنوری ۔ اگست ۱۹۷۶ء کے درمیان بمبئی میں آنے والے مغربی ایشیا کے سیاحوں کی تعداد ۲۱ ہزار تھی یہ سیاح زیادہ تر سعودی عرب، ایران، مصر اور دبئی کے رہنے والے ہیں۔ ان میں سے کچھ صرف اس لئے آئے کہ ’’اپنے ملک میں تیل کی بارش دیکھنے کے بعد ہندوستان میں پانی کی بارش بھی دیکھیں، کچھ تجارت کے لئے اور کچھ علاج کے لئے یہاں آئے۔ عرب سیاحوں کی یہ کثرت دیکھ کر ہندوستان کے محکمہ سیاحی نے اپنا ایک آفس کویت میں کھول دیا ہے دوسرا ایران میں کھولا جانے ڈالا ہے۔
عرب سیاح عام طور پر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ آتے ہیں اور زیادہ تر اپنے موٹلی میں مقیم ہوتے ہیں۔ وہ روزانہ جو رقم خرچ کرتے ہیں اس کی تعداد موٹلی کے ذمہ داروں کے بیان کے مطابق فی کس تین ہزار سے پانچ ہزار روپئے تک ہے۔ ایک عرب ’’ سوداگرگر‘‘ نے اپنے بمبئی کے زمانہ قیام میں ۱۷ ہزار روپئے خرچ کئے اور تین ہزار ٹپ کے طور پر دیئے ان عربوں کے لئے سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہے۔ ان کی تین چوتھائی تعداد صرف عربی جانتی ہے۔ جو لوگ انگریزی جانتے ہیں ، ان کی انگریزی بھی بہت معمولی ہوتی ہے۔ ان کی اس کمی نے ترجمانوں کی بہت بڑی مانگ پیدا کر دی ہے ہمارے عربی مدارس کے نوجوان اگر عربی بول چال کی مشق کر لیں اور اس کے ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھ لیں تو ہندوستان اور ہندوستان کے باہر بہت معقول کام اپنے لئے پا سکتے ہیں۔ جب کوئی قوم سیاسی یا اقتصادی اعتبار سے اٹھتی ہے تو اس کے ساتھ اس کی زبان بھی اہمیت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی اس وقت عربی زبان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عرب پٹرول نے عربی زبان کی اہمیت بہت بڑھا دی ہے۔ بے شمار نئے نئے لسانی کام وجود میں آ گئے ہیں۔ مگر ان نئے مواقع سے وہی لوگ پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو عربی کے ساتھ کم از کم ایک اور بین الاقوامی زبان جانتے ہوں۔ اور جو شخص عربی جیسی زبان جان لے، اس کے لئے دوسری زبان سیکھنا کچھ مشکل نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues