The mountain, at last, is coming to Mohammad
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۶
غلط اقدام کبھی صحیح نتیجہ تک وہیں پہنچا سکتا خواہ اس کو کرنے والے کتنے ہی مخلص اور مقدس ہوں مولاناحمید الدین فراہی (۱۹۳۰- ۱۸۶۳)
ایک بلند پایہ محقق اور مفسر تھے۔ اردو کے علاوہ عربی، فارسی انگریزی اور عبرانی زبانیں بخوبی جانتے تھے۔ تقدس اور اخلاص اور اتباع سنت میں ان کو کاملیت کا مقام حاصل تھا۔ اردو یونیورسٹی کا تخیل جس نے بالاخر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد کی صورت اختیار کی انھیں کے ذہن کی تخلیق تھی۔ اگر چہ جغرافی اور زمانی حقائق نے ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد اس کا خاتمہ کر دیا۔ عالم اسلام میں ذہنی انقلاب پیدا کرنے کے لئے انھوں نے اپنی عربی تفسیر نظام القرآن لکھنا شروع کی ، مگر اس کی تکمیل سے پہلے اس دنیا سے چلے گئے ۔ وہ شریعت کی بنیاد پر سیاسی نظام قائم کرنے کو مسلمانوں کی اصل اجتماعی ذمہ داری سمجھتے تھے ۔ ” ملکوت اللہ ‘‘ کے نام سے انھوں نے اس موضوع پر ایک عربی رسالہ بھی لکھا ہے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جماعت اسلامی کی حکومت الہیہ کسی حد تک انھیں کے افکار کی عملی صورت تھی۔ مگر ہندو پاک اور بنگلہ دیش میں یہ جماعت حالات کی چٹان سے ٹکرا کر اسی طرح ختم ہورہی ہے جس طرح اس دور کی بہت سی دوسری سیاسی تحریکیں طوفان کی طرح اٹھیں اور بلبلوں کی طرح ختم ہوگئیں۔
مولانا فراہی کے شاگرد خاص مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کے حالات کے ذیل میں لکھا ہے : ” علی گڑھ میں مولانانے انگریزی اور دوسرے علوم کے ساتھ ساتھ خاص توجہ کے ساتھ فلسفہ جدید کی تحصیل کی۔ اس زمانہ میں علی گڑھ میں فلسفہ کے پروفیسر مشہور انگریزی مستشرق ڈاکٹر آرنلڈ تھے ۔ مولا نا نے فلسفہ کے درس تو ان سے ضرور لئے لیکن ان سے خوش نہیں تھے۔ وہ آرنلڈ صاحب کو بھی اسی بساط سیاست کا ایک مہرہ سمجھتے تھے جو انگریزوں نے علی گڑھ میں بچھا رکھی تھی۔ علی گڑھ کا حلقہ ڈاکٹر آرنلڈ صاحب کی کتاب ” پریچنگ آف اسلام “ کا بڑا مداح تھا۔ لیکن مولانا اس کتاب کے سخت مخالف تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے اندر سے روح جہاد ختم کرنے کے لئے لکھی گئی ہے:۔ ترجمہ قرآن مجید صفحه ۱۶ انیسویں صدی کے نصف ثانی اور بیسویں صدی کے نصف اول میں جو مفکرین اٹھے وہ تقریباً سب کے سب اسی قسم کے خیالات رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں جو بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں ، انھوں نے سیاسی انقلاب کو اسلام کے احیاءکا واحد راستہ سمجھا۔ دنیوی نتائج کی حد تک یہ تمام تحریکیں ناکام رہیں تاہم اس سے بھی زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد اس قسم کے لوگوں کو اب کرنے کا کوئی کام ہی نظر نہیں آتا۔ وہ تحریکیں جو آسمانی عزائم کے ساتھ اٹھی تھیں، اب بے یقینی اور پست حوصلگی کی سطح پر آکر ٹھیر گئی ہیں۔ پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ان تحریکوں نے اپنے سیاسی جہاد میں جو دولت و طاقت خرچ کی ہے، ان کو نہ دعوت واشاعت کے ان غیر سیاسی طریقوں میں خرچ کرتیں جن کا تاریخی ریکارڈ ” پریچنگ آف اسلام “ میں جمع کیا گیا ہے، تو اسلام کا احیاء شاید آج ایک واقعہ بن چکا ہوتا۔ اس دور کے مفکرین کی بہت بڑی غلطی تھی کہ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues