The mountain, at last, is coming to Mohammad
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۷
قتال اور سیاسی معرکہ آرائی کو وہ چیز سمجھ لیا جس کو شریعت میں جہاد کہا گیا ہے۔ امت مسلمہ کا جہاد، دعوت ہے نہ کہ قتال اور سیاسی معرکہ آرائی۔ یہ بات قرآن میں انتہائی طور پر واضح ہے۔ مگر اس دور کے مجاہدین سے اس بارے میں سخت ذہول ہو گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پوری ایک صدی تک یہ لوگ سیاست کے میدان میں قربانیاں دیتے رہے؛ اور کسی نے بھی اس اصل ضرورت کا احساس نہ کیا کہ دین حق کی پیغام رسانی کے لئے دعوتی مہم کا آغاز کیا جائے۔ اگر یہ فکر ہوتا تو دعوتی انداز کا لٹریچر تیار کیا جاتا۔ دعوتی انداز کی تنظیم قائم ہوتی۔ دعوتی انداز کی سرگرمیوں کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی۔ اس دور میں دعوت الی اللہ کے زبر دست نئے امکانات پیدا ہو گئے تھے۔ مگر وہ سب غیر استعمال شدہ حالت میں پڑے رہے اور تمام لوگ سیاسی قربانیوں کا ٹائٹل لے لے کر اس دنیا سے چلے گئے۔
اس ابد وہمناک غلطی کی تلافی یہ ہے کہ دعوتی بنیادوں پر از سر نو کام کا آغاز کیا جائے۔ صرف دعوتی کام ہی ہم کو دنیا و آخرت میں سرخرو کر سکتا ہے۔ اس کے سوا جتنے کام ہیں خسر الدنیا و الآخرۃ کا مصداق ہیں۔
غلط اقدام کبھی صحیح نتیجہ تک نہیں پہنچا سکتا۔ خواہ اس کی پشت پر ہم نے اخلاص اور تقدس کی کتنی ہی مقدار جمع کر دی ہو۔ ایک تقابل صوفی نذیر احمد کاشمیری اگر مہاتما بدھ کے انتقال کے دو سو برس بعد مہاراجہ اشوک بدھ مت میں داخل نہ ہوتے اور حضرت مسیح کے دنیا سے چلے جانے کے ساڑھے تین سو برس بعد شہنشاہ قسطنطین عیسائیت کو قبول نہ کرتے تو یہ مذاہب شاید ہی عالمی مذاہب بن کر کوئی تاریخی حیثیت اختیار کر سکتے۔ شاید یہ دونوں اپنے اپنے وقت کے مذاہب (برہمن ازم اور یہودیت) کی بے اعتدالیوں کے خلاف محض احتجاجی قسم کے فرقوں کی حیثیت سے آگے نہ بڑھتے۔ اس کے برعکس اگر اسلام کو اپنی اسی ابتدائی صورت میں سو برس تک کام کرنے کا موقع نہ رہتا جس صورت پر اس کو حضرت خاتم الانبیاء نے قائم کیا تھا اور جو صرف حضرت ابو بکر و عمر کے دور کے خاتمہ تک جوں کی توں قائم رہی، تو یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ شاید ہی دنیا کا اکثر حصہ مسلمان ہو جاتا۔ اور کان الناس اُمَّۃً وَاحِدَۃً کی علی تعبیر چودہ سو برس پہلے ہو چکی تھی۔ لیکن دور ملوکیت کے بھرپور قیام نے ملت اسلامیہ کو كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اِنَّ تَمُرُّونَ وَتَنْهَوْنَ عَنْ الْمُنْكَرِ کے مقام سے گرا کر اور اسے ایک دنیا دار ملت بنا کر بالکل بنی اسرائیل اور برہمنوں کی طرح کتبہ داری، تحاسد و تبا بغض و تنا فر کا شکار کر دیا اس کا ابتدائی سہرا تو بنو امیہ کے سر ہے بعد میں بنو ہاشم نے اسے آج تک جاری رکھا ہے۔ گویا جس ملوکیت نے بدھ مت اور عیسائیت کو عالمی مذاہب بنا کر ان میں چار چاند لگا دیئے، وہی ملوکیت اسلام کی عالم گیری کے مقابل سب سے بڑی روک ثابت ہوئی ۔ (۴۷) اسی طرح یہ بھی ایک افسوسناک تقابل ہے کہ جہاں راہبان مسیح نے مختلف کشف و رویا ر و الہام کا سہارا لیتے ہوئے اپنی دعوت کا رخ بنی اسرائیل سے ہٹا کر سارے عالم کی طرف کر دیا، وہاں ملت اسلامیہ کے ارباب کشف و رعیک نے انہیں کشفیات و رویا ر کے سہارے امت اسلامیہ کو اپنے عالمی مشن سے ہٹا کر اس کا رخ ایسی باطنیت کی طرف کر دیا جو امت میں عالمگیر تفرقے کو جنم دے کر ایک خواب و خیال کی دنیا بنا چکا ہے۔ (۸۰)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues