Al-Risala · October 1976 · page 33

مطالعہ کتب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۳

۱۸۸۴ء میں جب کہ سید جمال الدین افغانی اور مفتی محمد عبدہ پیرس میں تھے ، انھوں نے جان لیا تھا کہ سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اہل مغرب کے درمیان اسلام کی اشاعت کی جائے اور اس کام کا سب سے موثر ذریعہ قرآن ہے۔ مگر انھوں نے اور ان کے بعد تقریباً تمام بہترین صلاحیت کے لوگوں نے اپنی عمریں اور اپنے ذرائع و وسائل لاحاصل قسم کی سیاسی مقابلہ آرائی میں کھودئے سید جمال الدین افغانی نے کہا : یورپ کے لوگوں کے سامنے اگر اسلام کی دعوت اچھی طرح پیش کی جائے تو وہ اسلام قبول کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں ۔ کیونکہ انھوں نے اسلام اور دوسرے ادیان کا تقابلی مطالعہ کیا تو انھوں نے پایا کہ عقیدہ وعمل کی آسانی کے اعتبار سے دونوں میں بہت فرق ہے۔ اور مغربی اقوام میں قبول اسلام کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب امریکہ کے لوگ ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اور اسلامی قوموں کے درمیان اس طرح کی قدیم عداوتیں نہیں ہیں جو مسلمانوں اور یورپی قوموں کے درمیان ہیں۔

اہل مغرب کو اسلام کی طرف متوجہ کرنے کے لئے سب سے بڑا ذریعہ قرآن ہے۔ قرآن کی دعوت اصل اسلام کی طرف ہے۔ مگر وہ قرآن کے حاملین کی بگڑی ہوئی حالت کو دیکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ اب اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسری قوموں کو اسلام کی طرف لے آئیں تو ہر چیز سے پہلے ضروری ہے کہ ان پر برہان قائم کریں ، اس طرح کہ ہم اسلام کی صفات پر عامل ہوں۔ ورنہ ہم پورے مسلمان قرار نہیں پا سکتے ۔ قرآنی تعلیمات کے فضائل کے بارے میں سید افغانی نے فرمایا: قرآن ہی وہ کتاب ہے جس نے سب سے پہلے فلسفیانہ طریق سے حقائق تک پہنچنے کا راستہ بتایا۔ قرآن کی بیشتر آیات میں اس طرح کے سوالات قائم کئے گئے ہیں: ایسا کیوں، ویسا کیوں۔ اور مخاطب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس کا معقول جواب دے۔ اور فلسفہ اس کے سوا کسی اور چیز کا نام نہیں۔

انھوں نے کہا: قرآن کے اترنے سے پہلے عرب کے لوگ انتہائی پست حالت میں تھے۔ مگر ان پر ڈیڑھ سو سال بھی نہیں گزرے کہ انھوں نے اپنے وقت کی آباد دنیا کو فتح کر لیا۔ اور دنیا کی قوموں سے سیاست، علم، فلسفہ، صنعت تجارت ہر چیز میں بڑھ گئے، اور بخدا یہ سب کچھ قرآن کا کرشمہ تھا۔ قرآن تنہا پچھلی قوموں کو کھینچنے اور ان کو ہدایت پر لانے کے لئے کافی تھا۔ وہی آج بھی جدید قوموں کو کھینچنے اور ہدایت دینے کے لئے بالکل کافی ہے۔

سید جمال الدین ایک بڑے عالم تھے اور اسلام اور مسلمانوں کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے۔ ان کی ذات سے لوگوں کو بہت بڑا فائدہ پہنچ سکتا تھا۔ مگر انھوں نے اپنی ساری توجہ سیاست کی طرف موڑ دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی صلاحیتیں ضائع ہوگئیں۔

مجھے حیرت ہے کہ موجودہ زمانہ میں تمام اعلیٰ صلات

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page