Al-Risala · October 1976 · page 35

مطالعہ کتب

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۵

یہ کیامیابی محض پر جوش اقدام کا نتیجہ نہ تھی بلکہ سوچے سمجھے منصوبے کے ذریعہ حاصل کی گئی بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے اس طرح کے الفاظ نے مسلمانوں میں عاقبت اندیشانہ اقدام کا ذہن پیدا کیا ہے۔ حالاں کہ خود اس شعر میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے وہ ایک سوچی سمجھی پیش قدمی تھی نہ کہ محض ایک پرجوش چھلانگ ۔ ۱۶ھ میں اسلامی فوج سعد بن وقاص کی قیادت میں عراق کے علاقوں کو فتح کر رہی تھی۔ بہرہ شیر کو فتح کر کے جب وہ آگے بڑھی تو سامنے دریائے دجلہ تھا اور اس کے دوسری طرف مدائن جو ایرانیوں کا ایک اہم شہر تھا اور وہاں انھوں نے زبردست قلعہ بنا رکھا تھا۔ ایرانیوں نے بہرہ شیر سے بھاگتے ہوائے دجلہ کے پل کو توڑ دیا تھا اور دور تک کوئی کشتی بھی نہ چھوڑی تھی جس سے اسلامی لشکر دریا کو عبور کر سکے۔

سعد بن وقاص اگلے دن اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور یہ کہہ کر گھوڑا دریا میں ڈال دیا :

نستعين بالله ونتوكل عليه حسبنا الله ونعم الوكيل ولا حول ولا قوة الا بالله العظيم ہم اللہ سے مدد چاہتے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔ عظیم و برتر خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔

آپ کو دیکھ کر دوسروں کو بھی جرات ہوئی اور پورا لشکر اپنے گھوڑوں کے ساتھ دریا میں تیرنے لگا۔ یہ لوگ نصف سے زیادہ دریا پار کر چکے تھے کہ ایرانی تیر اندازوں نے تیروں کی بارش شروع کر دی جو دریا کے دوسرے کنارے پہلے سے موجود تھے۔ دریا میں تیرتا ہوا لشکر اس ناگہانی آفت کا خود مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ پھر کا چیز تھی جس نے فوج کو برباد ہونے سے بچایا۔ یہ کوئی اتفاق نہ تھا اور نہ محض جوش کا کرشمہ تھا۔ یہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی تھی، جو کچھ ہوا، وہ عین اس نقشہ کے مطابق ہو جو پہلے سے طے کر لیا گیا تھا۔

صورت حال پیش آنے کے بعد سعد بن وقاص نے باقاعدہ مشورہ کیا۔ سعد بن وقاص جہاں نصرت الہی پر یقین کرتے ہوئے دریا میں کو دپڑے،وہیں وہیں انھوں نے حالات کا مکمل جائزہ لے کر اس آنے والی آفت کا بھی پیشگی اندازہ کر لیا تھا۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب انھوں نے گھوڑا دریا میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو لشکر یوں سے فرمایا کہ تم میں کون ایسا بہادر سردار ہے جو اپنی جمعیت کے ساتھ اس بات کا وعدہ کرے کہ وہ ہم کو دریا عبور کرنے کے وقت دشمن کے امکانی حملہ سے بچائے گا۔ عاصم بن عمرو نے اس کی ذمہ داری لی اور چھ سو تیر اندازوں کی ایک جماعت لے کر دجلہ کے اس کنارے ایک اونچے مقام پر کھڑے ہو گئے۔ جیسے ہی ایرانی تیر اندازوں نے دجلہ میں تیرتے ہوئے اسلامی لشکر پر تیر پھینکنے شروع کئے، عاصم بن عمرو کا دستہ فوراً متحرک ہو گیا۔ اس نے ایرانی تیر اندازوں پر اتنی قوت کے ساتھ مسلسل تیر برسائے کہ انھیں دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا، کثرت سے ایرانی مجروح اور ہلاک ہونے لگے حتی کہ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اس درمیان میں اسلامی لشکر دریا پار کر کے دوسرے کنارے پہنچ گیا اور ایرانی لشکر پر سخت حملہ کر کے مدائن پر قبضہ کر لیا ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page