Al-Risala · October 1976 · page 36

اختلاف کا نقصان کہاں تک جاتا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۶

اختلاف کا نقصان کہاں تک جاتا ہے

عرب کے جزیرہ نما سے اسلام کا جو سیلاب اٹھا تھا، وہ اطراف کے تمام ملکوں پر اس طرح چھایا کہ ان کی زبان اور تہذیب تک بدل گئی۔ اس میں صرف ایک استثنا ہے، اور وہ ایران کا ہے۔ یہ تاریخ کا ایک اہم سوال ہے کہ وہ اسلام جس نے اپنے تمام پڑوسی ملکوں کی زبان اور تہذیب بدل دی، وہ ایران میں مذہبی تبدیلی کی حد تک کامیاب ہونے کے باوجود وہاں کی زبان کو کیوں نہ بدل سکا۔

اس سوال کا جواب ہم کو امویوں اور عباسیوں کی سیاسی لڑائی میں ملتا ہے۔ اموی خلافت کی جگہ عباسی خلافت قائم کرنے کی تحریک جو دوسری صدی ہجری میں شروع ہوئی۔ اس میں ایک طرف وہ لوگ تھے جو سیاسی عزائم کے تحت یہ کام کر رہے تھے۔ اس گروہ کے سردار محمد بن علی ابن عبد اللہ بن عباس بن مطلب تھے۔ دوسری طرف مذہبی لوگ تھے جو اصلاحی جذبہ کے تحت اس مہم میں شریک ہوگئے۔ عبد اللہ بن محمد بن حنفیہ بن علی بن ابی طالب کا تعلق اسی دوسرے گروہ سے ہے۔ محمد بن علی کے لڑکے ابراہیم ہیں جو ۱۲۴ ہجری میں اپنے والد کے انتقال کے بعد اس تحریک کے امام مقرر ہوئے۔ ابو مسلم خراسانی جس نے عباسی سلطنت کے قیام میں اہم حصہ ادا کیا ہے، ایک معمولی مزدور تھا جو چار جامہ سینے کا کام کرتا تھا۔ اس کی زبردست شخصیت اور غیر معمولی صلاحیت کو دیکھ کر امام ابراہیم نے اس کو اپنے کام کے لئے چن لیا اور اس کو اپنا نائب مقرر کر کے خراسان بھیج دیا۔ جب عباسیوں کو غلبہ حاصل ہوا تو انھوں نے چن چن کر بنوامیہ کے افراد کو قتل کرنا شروع کیا تاکہ مستقبل میں ان کے سیاسی اقتدار کو چیلنج کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔ اس زمانے میں امام ابراہیم نے ابو مسلم کو تاکید کے ساتھ لکھا کہ ”خراسان میں کسی عربی بولنے والے کو زندہ نہ رکھنا۔ “ خراسان میں بنو امیہ کے طرف دار وہی عرب قبائل تھے جو خراسان کی فتح کے بعد وہاں جاکر مقیم ہو گئے ۔ ان کے علاوہ جو خراسانی باشندے تھے، وہ سب نو مسلم تھے اور با آسانی عباسی اقتدار کو قبول کر سکتے تھے۔ جب کہ عرب قبائل سے یہ اندیشہ تھا کہ ان کی عربیت انھیں بنوامیہ کا حامی بنا کر نئے ارباب اقتدار کے لئے مسئلہ نہ پیدا کر دے ۔ ابو مسلم ایرانی النسل ہونے کی وجہ سے خود بھی اپنے ملک سے عربوں کے استیصال کا دل سے خواہشمند تھا۔ امام ابراہیم عباسی کی ہدایت پانے کے بعد وہ پوری طرح اس محبوب مہم کے لئے سرگرم ہو گیا۔ اس نے خراسان میں آباد سارے عرب باشندوں کا ایک طرف سے صفایا کر دیا۔ یہ عرب قبائل جو اس وقت خراسان میں آباد تھے، دوسرے پڑوسی ملکوں کی طرح یہاں کی زبان، معاشرت، تمدن کو عربی بنانے میں مصروف تھے۔ ان کے مذہب کو بدلنے میں انھوں نے کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اب زبان اور تہذیب کو بدلنے کا عمل کامیابی کے ساتھ جاری تھا، مگر ابو مسلم کی طرف سے ان کے قتل عام کے بعد یہ عمل یکایک رک گیا ۔ ایرانی زبان اور ایرانی تہذیب مرتے مرتے دوبارہ زندہ ہو گئے۔ ایران و خراسان جو مصر و شام و عراق وغیرہ کی مانند آج عرب دنیا کا ایک حصہ ہوتا۔ دوبارہ فارسی ملک بن گیا۔ تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے کہ سیاسی حوصلہ مندوں کی سیاست بازیوں کی وجہ سے ضروری قسم کے تعمیری کام ہونے سے رک گئے جس کے نتائج بعید کو اندوہناک صورت میں برآمد ہوئے۔ چند افراد کے وقتی عزائم کی قیمت قوموں اور ملکوں کو صدیوں تک انتہائی بھیانک شکل میں دینی پڑی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page