اختلاف کا نقصان کہاں تک جاتا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۷
سبق آموز
مغربی پاکستان کے سابق گورنر امیر محمد خاں (متوفی ۱۹۶۷ء) نے یورپ میں زرعی سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ صدر ایوب کی حکومت کے زمانہ میں پاکستان میں جو "سبز انقلاب" آیا تھا اس کا سہرا در اصل ملک امیر محمد خاں ہی کے سر ہے۔ جو اس وقت پاکستان کے غذائی وزرعی کمیشن کے صدر تھے اور بعد کو اپنی خدمات کے اعتراف میں گورنر بنا دیے گئے۔ وہ مشرقی تہذیب کا نمونہ تھے۔ گورنر ہاؤس میں نماز روزہ کی سختی سے پابندی کرتے اور ان کے گھر کی خواتین ہمیشہ پردہ کے اندر رہتیں۔ جب پاکستان کے تیسرے منصوبہ میں خاںدانی منصوبہ بندی کے لئے ۳۰ کروڑ روپے کی رقم رکھی گئی تو انھوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ بات بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ صدر ایوب نے جھنجھلا کر کہہ دیا کہ اگر آبادی کی روک تھام نہ ہوئی تو ایک وقت وہ آئے گا جب اناج کی کمی کی وجہ سے ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کو بھون کر کھائے گا خوشی صرف اس بات کی ہے کہ اس وقت میں زندہ نہیں رہوں گا۔
ملک امیر محمد خان نے ستمبر ۱۹۶۶ء میں گورنری سے استعفا دے دیا۔ اور اپنے آبائی وطن کالا باغ چلے گئے۔ جہاں ان کے کھیت اور باغات تھے۔ یہاں ان کے گھر پر جائیداد کا جھگڑا شروع ہوا ۔ بالآخر ایک روز وہ خود اپنے بیٹے ملک محمد اسد خاں کے خلاف رائفل لے کر کھڑے ہو گئے۔ انھوں نے اپنے بیٹے پر گولی چلائی مگر وہ کندھے کو زخمی کرتی ہوئی نکل گئی ۔ اب بیٹے کی باری تھی۔ اس نے چھ گولیاں اپنے باپ کے جسم میں اتار دیں۔ اور وہ وہیں موقع پر ختم ہو گئے ۔
وہ شخص جس نے خاندانی منصوبہ بندی کو ناجائز قرار دے کر گورنری کے عہدہ کو چھوڑ دیا تھا، بالآخر خود اپنے بیٹے کے خلاف بندوق لے کر کھڑا ہو گیا اگرچہ اس مقابلہ میں جوان بیٹا بوڑھے باپ پر غالب آیا اور نتیجہ بر عکس شکل میں برآمد ہوا۔ اگر آپ الرساله کے خریدار نہیں ہیں تو سمجھ لیجئے کہ یہ پرچہ آپ کی خدمت میں اس امید میں حاضر کیا گیا ہے کہ آپ اس کی خریداری قبول فرمائیں گے۔ براہ کرم اپنا سالانہ چندہ بذریعہ منی آرڈر روانہ فرمائیں تاکہ آپ کا نام الرسالہ کے باقاعدہ خریداروں میں درج کر لیا جائے۔ چندہ وصول نہ ہونے کی صورت میں روکریں نہیں چھاپا جائے گا۔
اگلا حصہ نہیں چھاپا جائے گا۔
چندہ سالانہ : ۲۴ روپے ۔ خصوصی چندہ: کم از کم ایک سوا یک روپیہ کیشن گنج ، دھلی ۶
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues