Al-Risala · October 1976 · page 38

اختلاف کا نقصان کہاں تک جاتا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۳۸

مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴ء-۱۸۵۷ء) نے اسی برس پہلے اپنی کتاب الکلام میں لکھا تھا کہ ”دوسری دنیا“ کے وجود کو عقلی ذرائع سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے پہلے امام غزالی بھی یہی بات کہہ چکے ہیں مگر آج دوسری دنیا کا وجود اسی طرح ایک ثابت شدہ چیز بن رہا ہے جیسے ہماری موجودہ دنیا۔

اگلے صفحہ پر جو مضمون درج کیا جارہا ہے، وہ ایک نمونہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید سائنس نے کس طرح ان مذہبی حقائق کو ”عقلی طور پر ثابت کر دیا ہے جن کو اس سے پہلے صرف قیاسی بحث کا موضوع سمجھا جاتا تھا۔

سائنس کے طریقوں سے حقیقت کی تلاش کرنے والے اب اس رائے پر پہنچ رہے ہیں کہ کائنات ایک جوڑے کی شکل میں ہے۔ ہماری دنیا کے ساتھ ایک اور دنیا ہے جو اس کے متوازی اپنا وجود رکھتی ہے۔ وہ دنیا ہماری دنیا سے زیادہ پائیدار ہے مگر چوں کہ وہ ہمارے ورلڈ کا اینٹی ورلڈ ہے، اس لئے یہ دوسری دنیا ہم کو موجودہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی۔

یہ ٹھیک وہی بات ہے جو قرآن میں ڈیڑھ ہزار برس پہلے بتا دی گئی تھی۔ قرآن نے کہا تھا کہ ہر چیز کو اللہ نے جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے۔ تاکہ تم سوچو کہ جب ہر چیز کا جوڑا ہے تو اس دنیا کا جوڑا کہاں ہے جس سے مل کر وہ مکمل ہو سکے۔ (ذاریات - ۴۹) دنیا کا یہ جوڑا (آخرت) ۲۵ سال پہلے تک صرف ایک قیاسی چیز تھی، اب جدید علم نے خالص سائنسی طریقوں سے اس کے وجود کو معلوم کر لیا ہے، اس طرح کی بے شمار دریافتیں جنھوں نے موجودہ زمانہ میں الحاد کو بالکل بے بنیاد ثابت کر دیا ہے اور اگر ان کی مدد سے نیا علمِ کلام مرتب کیا جائے تو وہ قدیم علمِ کلام کے مقابلہ میں ایسا ہی ہوگا جیسے تلوار کے مقابلہ میں ایٹم بم۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page