Al-Risala · October 1976 · page 29

اختلاف کا نقصان کہاں تک جاتا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۹

یہاں ایک اور مخفی دنیا ہے جو ہماری دنیا کے متوازی موجود ہے ۱۹۲۸ تک طبیعیات داں یہ سمجھتے تھے کہ تمام ایٹم صرف دو قسم کے ذرات کا مجموعہ ہوتے ہیں، مثبت برقی چارج رکھنے والے پروٹان اور منفی برقی چارج رکھنے والے الیکٹران۔ مگر داںی سال پال اے ایم ڈیراک Paul A. M. Dirac نے، جو ایک انتہائی تخلیقی قسم کا ریاضیاتی طبیعیات داں تھا ذرات کا ایک نیا نظریہ پیش کیا اور ایک نئے قسم کے ذرہ کی موجودگی کا امکان ظاہر کیا جو اب تک تجرباتی طبیعیات دانوں کے لئے لامعلوم تھا اس نے کہا کہ "اس کا مقدار مادہ الیکٹران جیسا ہے۔ مگر وہ اس کے مخالف برقی چارج رکھتا ہے۔ ہم اس ذرہ کو اینٹی الیکٹران کہہ سکتے ہیں" ۱۹۳۲ میں یہ اینٹی الیکٹران دریافت ہو گیا۔ اس کو کے، اینڈرسن (K. Anderson) نے کاسمک شعاعوں میں دریافت کیا اور اس کا نام پازیٹران رکھا گیا۔ یہ پہلا اینٹی پارٹیکل تھا جو انسان کے علم میں آیا۔ اس وقت سے اب تک ۳۵ سے زیادہ ایلیمنٹری پارٹیکل ایٹم کے اندر دریافت ہو چکے ہیں اور اگر تمام نیو کلییر واقعات کو شمار کیا جائے تو یہ تعداد ۲۰۰ تک پہنچ جائے گی بشمول ان کے اینٹی پارٹیکل کے کیونکہ ایٹم کے ہر پارٹیکل کا ایک اینٹی پارٹیکل ہے۔ پروٹان ایک اینٹی پروٹان رکھتا ہے نیوٹران کا ایک اینٹی نیوٹران ہے اور اسی طرح دوسرے۔ صرف تین انتشار اب تک معلوم ہو سکے ہیں: فوٹون اور دو قسم کے میسان۔ مگر ان کی حیثیت خود اپنے ہی اینٹی پارٹیکل کی ہے۔ ذراتی جوڑوں (Pair Particles) کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ جیسے ہی وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہ ایک دوسرے کو فنا کر دیتے ہیں۔ مگر فنا کا مطلب مادہ کا بالکل فنا ہو جانا یں ہے، جیسا کہ بعض فلاسفہ غلطی سے سمجھتے ہیں۔ طبیعیات میں "فنا" کی اصطلاح کا مطلب یہ ہے کہ مادہ رکھنے والا ایلیمنٹری پارٹیکل مادہ یا انرجی کی کسی دوسری صورت میں تبدیل ہو جائے۔ یہ پروٹان کی شکل میں ہو سکتا ہے جو کہ زیرو مادہ کی حالت میں رہتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ایک پازیٹران اور ایک الیکٹران ٹکراتے ہیں، وہ فی الفور ایک دوسرے کو فنا کر کے دو فوٹان پیدا کر دیتے ہیں، اس سے یہ نکلتا ہے کہ ایک ایٹم اور ایک اینٹی ایٹم کا ٹکراؤ نہایت زبردست مقدار میں انرجی خارج کرے گا۔ فی الواقع مادہ اور اینٹی مادہ کا فنا ہونا، یورینیم کے ذریعہ پیدا کی جانے والی انرجی کا ایک ہزار گنا اور تھرمو نیوکلیئر کا ۳۳ گنا زیادہ توانائی خارج کرتا ہے۔ ایک دن آدمی اس قابل ہو جائے گا کہ اس کبھی نہ ختم ہونے والے ذریعہ توانائی پر قابو پالے۔ جب ایک بار اینٹی پارٹیکل کو مان لیا گیا اور ان کا وجود محقق ہو گیا تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوا کہ سائنسی فکر اینٹی نیوکلیس اور اینٹی ایٹم کی طرف مڑ گیا۔ ایک اینٹی ہائیڈر و جن ایٹم میں منفی برقی چارج رکھنے والا ایک اینٹی پروٹان ہوگا اور اس کے گرد مثبت برقی چارج نہ رکھنے والا الیکٹران (پازیٹران) اس کے گرد گھوم رہا ہوگا۔ ڈیوٹریم، ہائیڈ روجن کا ایک آئیسو ٹوپ ہے جس کے نیو کلیس میں ایک پروٹان اور ایک نیوٹران ہوتا ہے۔ اب اینٹی ڈیوٹریم کا نیو کلیس ایک اینٹی پروٹان اور ایک اینٹی نیوٹران پر مشتمل ہوگا۔ زیادہ دن نہیں گزرے کہ سائنس اس اس قسم کا اینٹی ڈیوٹریم پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس طرح اینٹی آکسیجن، اینٹی آئرن وغیرہ کا قیاس کیا جا سکتا ہے۔ فطری طور پر اس کے بعد دوسرا قدم انٹی میٹر اور اینٹی ورلڈ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page