Al-Risala · October 1976 · page 40

اختلاف کا نقصان کہاں تک جاتا ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۰

ہماری دنیا میں تمام اینٹی پارٹیکل غیر قائم ( Unstable ) حالت میں ہیں ، مگر اینٹی ورلڈ میں وہ سب قائم ( Stable ) ورلڈ کو بنانے کے لئے الگ الگ ہو گئے ہوں گے۔ یہ نظریہ پہلے سویڈش طبیعیات داں اوسکر کُلیَن (Oskar Klein) نے پیش کیا حالت میں ہوں گے کیونکہ تمام ایٹموں کے نیو کلیس منفی برقی چارج رکھتے ہوں گے اور تمام الیکٹران مثبت برقی چارج ۔ اینٹی ورلڈ کی موجودگی کوئی بعید از قیاس بات نہیں در حقیقت اس قسم کے ایک اینٹی ورلڈ کے موجود ہونے کا امکان پہلی بار ۱۹۳۳ء میں ڈیراک نے اپنے لیکچر میں بیان کیا تھا مگر اب تھا۔ اس کے بعد اس کی بنیاد پر مشہور طبیعی فلکیات داں ہنیز الفون (Hannes Alfven) نے 1963ء میں ایک تفریقی میکانزم کا امکان ظاہر کیا جس کے ذریعہ ایک ہی کہکشاں میں میٹر اور اینٹی میٹر دونوں موجود رہتے ہیں۔ مگر ابھی تک تفریقی میکانزم کا کوئی طریقہ وضع نہیں ہو سکا ہے جس کے مطابق ہماری کسی معلوم تک کوئی سائنس داں اس کی نشان دہی نہیں کر سکا۔

اس راہ کی مشکلات کیا ہیں۔ اپنی دنیا میں دور کی چیزوں کو کوسم فوٹان کی مدد سے پہچانتے ہیں جو کہ برقی مقناطیسی شعاؤں کے ذرات ہیں۔ اینٹی ورلڈ ، انٹراسکول وجود ہے تو وہ بھی اسی قسم کے فوٹان کا اخراج کرتی ہوگی جو کہ بیک وقت پارٹیکل بھی ہیں اور اینٹی پارٹیکل بھی۔ اینٹی ورلڈ ، وہ دور ہو یا نزدیک ، اس کی روشنی فوٹان کی شکل میں ہو سکتا ہے کہ مسلسل ہم تک پہنچ نہ رہی ہو۔ مگر ہم اس کو اپنے پازیٹو ورلڈ کی چیزوں کی روشنی سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ اصولی طور پر نیو ٹرینو کو ہمیں اینٹی ورلڈ کو جاننے میں مددگار ہونا چاہئے۔ مگر یہ نیو ٹرینو نیز اینٹی نیو ٹرینو بہت زیادہ گریز صفت ذرات ہیں اور ان کو پکڑنا انتہائی مشکل ہے۔ بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اینٹی ورلڈ ہم سے الگ اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتا ہے۔ اگر کائنات صرف پارٹیکل اور اینٹی پارٹیکل کے حساب سے اضافی نہیں ہے بلکہ میٹر اور اینٹی میٹر کے حساب سے بھی اضافی ہے تو ایک نیا اینٹی میٹر سے ترکیب یافتہ موجود ہونا چاہئے۔ تخلیق کے بارے کہکشاں کے قریب کوئی اینٹی کہکشاں موجود ہو یا ہماری دنیا سے متصل کوئی اینٹی دنیا پائی جاتی ہو۔

اب تک ہم نے ایک اینٹی ورلڈ پر غور کیا ہے جس میں صرف مادہ منفی ہوتا ہے۔ یہ ڈیراک کا اینٹی ورلڈ ہے۔ مگر جیسا کہ ہم جانتے ہیں، تمام مادہ، تمام اجسام مکاں میں حرکت کرتے ہیں اور زماں میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ ہماری دنیا میں یہ تینوں اجزار ـــ مادہ، مکاں اور زماں ــــ مثبت ہیں۔ ڈیراک کے اینٹی ورلڈ میں جس کو ہم تلاش کر رہے ہیں، صرف مادہ منفی ہوگا جبکہ مکاں اور زماں مثبت ہوں گے۔ مگر الجبرا کے عمل کی منفی مقداروں کی طرح ہم منفی زماں اور منفی مکاں کے امکانی وجود کو بھی سوچ سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں تینوں اجزار ــــ مکاں، زماں اور مادہ ــــ اینٹی ورلڈ کے سات الگ وجود بنائیں گے ہماری مثبت دنیا (پازیٹو ورلڈ) کو ملا کر کل تعداد آٹھ ہو جائے گی۔ اینٹی ورلڈ کے سات وجودوں میں سے ایک، جس میں مکاں، زماں اور مادہ سب منفی ہیں، بظاہر سب سے زیادہ یقینی اینٹی ورلڈ ہے۔ سوویت یونین کے ڈاکٹر گستاف نان Gustav Naan میں عظیم دھما کہ (Big Bang) کا نظریہ فرض کرتا ہے کہ تقریباً ۱۰ سے ۲۰ بلین سال پہلے سارا مادہ منجممد حالت میں ابتدائی ایٹم کی شکل میں تھا اور فوٹان انرجی پر مشتمل تھا۔ اگر کائنات واقعی متناسب ہے تو عظیم دھماکہ کے ساتھ فوٹان، میٹر اور اینٹی میٹر کی صورتوں میں مجتمع ہو گئے ہوں گے اور فنڈ منٹل انٹی نے اس مکمل طور پر سچی ایلینی ورلڈ کی ریاضیات کے ذریعہ ایسی ٹھوس احاطہ بندی کردی ہے کہ اس کے مخالفین تک اس کو انتہائی زبردست قسم کا متوازن تصور مانتے ہیں۔ ڈاکٹر ٹان کے ایلینی ورلڈ میں ہر چیز مکان ، زمان اور مادہ ۔ ایک دوسرے کے مخالف سمت میں بھاگ رہے ہیں ۔ نظریاتی طور پر یہ ناممکن

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page