اختلاف کا نقصان کہاں تک جاتا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۱
مقناطیس کا ہر ٹکڑا اپنے دونوں سروں پر ایک دوسرے کی ضد ہونا ہے۔ ایک سرے کو ساؤتھ پول (قطب جنوبی) اور دوسرے سرے کو نارتھ پول (قطب شمالی) کہتے ہیں۔ مقناطیس کے دو ٹکڑے لیجئے ۔ اگر آپ دونوں کے ساؤتھ پول کو آمنے سامنے کریں تو وہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے اور اگر ایک ساؤتھ پول دوسرے کے نارتھ پول کے سامنے لائیں تو وہ ایک دوسرے سے چمٹیں گے ۔ حیوانات کے نر و مادہ سے لے کر ایٹم کے مثبت اور منفی ذرات تک ہر جگہ یہی اصول جاری ہے۔ ہر چیز اسی لئے " ایک " ہے کہ وہ " دو " ہے ، اگر دو نہ ہو تو ایک بھی نہیں ۔ نہیں ۔ اس قسم کے اینٹی ورلڈ میں وہی طبیعیاتی قوانین ، بالفاظ دیگر فطرت کے قوانین ، منطبق ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ہم موجودہ دنیا میں جانتے ہیں۔ یہ انقلابی قسم کا اینٹی ورلڈ کہاں ہے۔ کیا وہ آج موجود ہے، کیا وہ ’’عظیم دھماکہ ‘‘ کے ابتدائی ایٹم سے پہلے موجود تھا۔ اس ایک اینٹی ورلڈ کی موجودگی کو ہم بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جس میں، قبل اس کے کہ وہ ابتدائی ایٹم کی صورت میں منجمد ہوا ، ہر چیز الٹی شکل میں تھی۔ تب ایک انقلاب عظیم برپا ہوا زماں رک گیا اور اینٹی ورلڈ نے پازیٹو ورلڈ کی صورت اختیار کی جو کہ آج ہماری دنیا ہے۔
اس قسم کی ایک صورت حال کے لئے کوئی چیز تا ممکن نہیں۔ مگر ڈاکٹرنان کا کہنا ہے کہ اس کو طبیعیات کے معلوم نظریات اور قوانین کے ذریعہ بیان نہیں کیا جا سکا۔ ان کا یقین ہے کہ وہ مختلف دنیا آج بھی موجود ہے مگر وہ ہم سے آزاد اور ہماری دنیا کے متوازی اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس ورلڈ اور اینٹی ورلڈ کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ کیا کوئی مواصلاتی سلسلہ ہے جس کے ذریعے سے ہماری دنیا اینٹی ورلڈ سے تعلق قائم کرتی ہے۔ مادہ اور انرجی لاشے (Nothing) سے پیدا نہیں ہو سکتے۔ اور یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنا کوئی نشان چھوڑے بغیر مٹ جائیں۔ مگر ایک ’’ بلیک ہول ‘‘ کے بارے میں غور کرو۔ بلیک ہول ایک ختم شدہ ستارہ ہے جس کی طاقت ور کشش ثقل اس کی روشنی لیا جا سکتا ہے۔ مگر بہت سے فلکیات داں یقین رکھتے ہیں کہ کویسار (Quasars)، پلسار (Pulsars) در حقیقت بلیک ہول ہیں جو گیسوں کی اکسرے شعاعوں کے پھٹنے سے اپنے وجود کو بتا رہے ہیں۔
امکانی طور پر کائنات میں وھائٹ ہول بھی ہیں۔
ان کے ذریعہ سے مادہ یا شعاعیں بالکل غیر متوقع طور پر خلا میں بکھر سکتی ہیں۔ مگر کیا بلیک ہول اور وھائٹ ہول میں کوئی رشتہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی سلسلہ ہو جو دونوں کو جوڑ رہا ہو۔ ممکن ہے کہ جو مادہ ایک بلیک ہول سے غائب ہو جاتا ہے، وہ دوبارہ ایک وھائٹ ہول میں ظاہر ہو جاتا ہو۔ ڈاکٹر نان کا خیال ہے کہ بلیک اور وھائٹ ہول کو ورلڈ اؤ اینٹی ورلڈ کے درمیان ایک مقامی واسطہ سمجھنا چاہئے۔ مگر اب تک یہ سب کچھ مفروضہ ہے۔ نان کے اینٹی ورلڈ میں منفی انرجی رکھنے والے اجسام مخالف زمانی رخ پر سفر کرتے ہیں۔ اس طرح وہ ایک زمان معکوس کی کائنات ہے۔ شاید یونیورس اور اینٹی یونیورس دونوں ایک دوسرے سے بندھی ہوئی اور باہم متعلق ہیں، ہر دنیا دوسری دنیا کے مقابلہ میں ایک اینٹی ورلڈ ہے۔ یہ ایک قسم کا اتحاد اور باہمی نفی اور اتحاد اور اپنے مخالف سے مقابلہ کی صورت ہے۔ کائنات سکڑتی ہے اور پھیلتی ہے اور سی کائنات کے واقعات کا تک کو نکلنے سے روک دیتی ہے اور اس طرح اس کو ناقابل دید بنا دیتی ہے۔ اب تک کوئی بلیک ہول مثبت طور پر شناخت نہیں اصل سر چشمہ ہے۔
ویکلی لنک ۱۲ اکتوبر ۱۹۷۵ء ا م
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues