اختلاف کا نقصان کہاں تک جاتا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۲۴
جب تعمیری حوصلے سیاسی عزائم میں تبدیل ہو جائیں ابو علی محمد بن علی بن مقلہ (۳۲۸ - ۲۷۲ھ)
ایک غیر معمولی صلاحیت رکھنے والا فن کار تھا۔ اس نے قدیم عربی خط (خط کوفی) میں اصلاحات کر کے اس کو حسین اور طبع بنانے میں کامیابی حاصل کی ۔ ابتدا میں وہ عباسی حکومت کے ایک دفتر میں چھ دینار ماہوار پر منشی تھا۔ پھر اس کا فنی کمال اس کو خلیفہ کے دربار تک لے گیا۔ یہاں اس نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ مسلسل تین بادشاہوں کا وزیر بنتا رہا۔ اولاً مقتدر باللہ عباسی (۳۲۰ - ۲۸۲) کا، پھر اس کے بھائی قاہر باللہ (۳۲۲ - ) کا، اس کے بعد راضی باللہ (۳۲۹ - ۲۹۷) کا۔ واضح ہو کہ ”وزیر“ قدیم زمانے میں وزیر اعظم کے ہم معنی ہوتا تھا۔ کیونکہ بادشاہ کا صرف ایک وزیر ہوتا تھا اور اس کو سارے اختیارات حاصل ہوتے تھے مقتدر باللہ کے ابتدائی زمانے میں حامد بن عباس وزیر تھا۔ اس کے ساتھ اس نے علی بن عیسی الجراح کو نائب وزیر بنایا تو لوگوں کو سخت تعجب ہوا۔ ایک شاعر کی نظم کا ایک شعر یہ ہے۔ اعجب من کل ما رأينا ان وزيرين في بلاد سب سے عجیب بات جو ہم نے دیکھی وہ یہ کہ ایک ملک میں دو وزیر ہیں ابن مقلہ کے یہ مناصب اس کے فن کی ترقی میں بے حد مددگار ہو سکتے تھے۔ اگر ان ملے ہوئے مواقع کو وہ فن تحریر اور اس سلسلے کی دوسری چیزوں کی ترقی اور تحقیق میں لگاتا تو نہ صرف یہ کہ عربی رسم الخط بہت پہلے اپنے معراج کمال کو پہنچ جاتا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ تحریر اور کتاب کے میدان کی بہت سی دوسری ایجادیں جو اس کے بہت بعد سامنے آئیں اسی کے زمانے میں وجود میں آگئی ہو تیں ۔ مثال کے طور پر کاغذ ابن مقلہ سے آٹھ سو برس پہلے ۱۰۵ء میں چین میں ایجاد ہوا۔ اس کا ایجاد کرنے والا سانی لون تھا جو ابن مقلہ کی طرح چینی شہنشاہ ہوئی کا وزیر تھا۔ روسی ترکستان میں عربوں اور چینیوں کی جنگ میں کچھ چینی قیدی جو مسلمانوں کے ہاتھ آئے وہ کاغذ بنانا جانتے تھے۔ سمرقند میں ان سے کاغذ بنوایا گیا۔ اس کے بعد ۷۹۵ء میں دستی کاغذ کی صنعت بغداد میں قائم ہوئی۔ تاہم مشین کے ذریعے کاغذ بنانے کا کام پہلی بار ۱۷۵۰ء ، ۶۱ میں ہالینڈ میں کیا گیا۔ مسلسل رول کی شکل میں کاغذ بنانے کی صنعت ۱۸۹۸ء میں فرانس میں شروع ہوئی۔ اسی طرح پرنٹنگ پریس پہلی بار غالباً چینیوں نے ۷۷۰ء میں دریافت کیا۔ یہ ابن مقلہ (۸۸۵-۹۴۰ء) کی پیدائش سے ۱۱۵ سال پہلے کا زمانہ تھا۔ پرنٹنگ کا قدیم ترین نمونہ اس سے بھی پہلے پانچویں صدی عیسوی کا چین میں دریافت ہوا ہے۔ یورپ میں ترقی یافتہ پرنٹنگ پریس ۱۵ ویں صدی میں گوٹن برگ نے بنایا اور بائبل چھاپی ۔ تاہم مسلم دنیا میں پرنٹنگ پریس نپولین کے ذریعے ۱۷۹۸ء میں پہلی بار مصر پہنچا۔
ابن مقلہ جو نہ صرف فن تحریر کا ماہر تھا بلکہ حیرت انگیز تخلیقی صلاحیت رکھتا تھا۔ اگر وہ اپنی خدا داد صلاحیتوں کو اپنے میدان میں لگاتا تو کاغذ اور چھپائی اور اس طرح کی دوسری نعمتیں جو عالم اسلام کو بہت بعد کو ملیں شاید ابن مقلہ کے زمانہ ہی میں اس کو مل چکی ہوتیں ۔ مگر وہ اس پر قانع نہ رہ سکا کہ اپنے آپ کو مخصوص میدان میں محدود رکھے۔ وزارت کے ملے ہوئے مواقع کو وہ تحریر اور کاغذ اور چھپائی کی ترقی میں استعمال کر سکتا تھا۔ اس کے برعکس اس نے ان مواقع کو عزت و ناموری کی طرف چھلانگ لگانے کے لئے ایک زینہ کے طور پر استعمال کیا۔ ابن مقلہ جب وزیر کے منصب پر پہنچ گیا تو اس کے ساتھ وہی حادثہ ہوا جس سے وہ لوگ بہت کم بچتے ہیں جن کو حالات کسی بلند مقام پر پہنچا دیں ۔ اس کے فنی جو عیا اب سیاست
‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues