Al-Risala · October 1976 · page 43

پتھرائے ہوئے درخت

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۳

عزائم میں تبدیل ہو گئے ۔ خاموش تعمیری کاموں میں مشغول رہنے کے بجائے وہ سیاسی اور فوجی تحریکوں کا لیڈر بن گیا اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ خلیفہ قاہر باللہ کو تخت سے اتار کر ابنِ مقلہ شاعر بھی تھا۔ اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ کے ماتم میں بہت سے اشعار موزوں کئے ۔ وہ کہتا تھا : " وہ ہاتھ جس نے قرآن کے فلاں فلاں نسخے لکھے، جس نے رسولِ اللہ ابو احمد بن مکتفی کو عباسی سلطنت کا حکمران بنا دیا جائے ۔ راز کھل گیا ۔ ابن مقلہ پر یہ الزام لگا کہ اس نے فوجی سردار مونس خادم کے ساتھ مل کر قاہر باللہ کی حکومت کو ختم کرنے کی سازش کی تھی۔ سازش کے انکشاف کے بعد ابن مقلہ کا گھر جلوا دیا گیا۔ ابو احمد بن مکتفی کو دیوار میں چین کی فلاں فلاں حدیثیں لکھیں، جس نے مشرق و مغرب میں احکام لکھ کر بھیجے وہ چوروں کے ہاتھ کی طرح کاٹ دیا گیا۔ ماضی کے ابن مقلہ کو تاریخ معاف کر سکتی ہے، مگر حال کے "ابن مقلہ" جو اپنے مناصب کو تعمیری جد و جہد میں نہیں لگاتے بلکہ اشتہاری قسم کے ذاتی عزائم میں اپنے قیمتی دیا گیا تھا۔ تاہم ابن مقلہ کی نہانت اس کے کام آئی۔ وہ فرار ہو کر بچ گیا اور اس کے بعد پانچ لاکھ دینار خلیفہ کو نذر کر کے دوبارہ وزارت حاصل کرلی۔ مگر اس کے سیاسی عزائم نے دوبارہ اس کے لئے مسائل پیدا کئے۔ یہاں تک کہ راضی باللہ نے اس کو وزارت سے معزول کرکے اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کا دایاں ہاتھ کٹوا دیا۔ بلاشبہ یہ ایک سخت ترین سزا تھی جو کسی فن کار کو دی جاسکتی تھی۔ گھر کی قید میں جو اشعار وہ پڑھا کرتا تھا۔ اس میں سے ایک شعر یہ تھا: لیس بعد الیمین لذة عیش یا حیاتی بانت یمینی فبینی ایاں ہاتھ کٹ جانے کے بعد زندگی میں کوئی لطف نہیں ، اے میری زندگی جب میرا دایاں ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا تو تو بھی جدا ہو جا۔

ابن مقلہ کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ جب اس کا دایاں ہاتھ کٹ گیا تو اس نے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق کی ۔ یہاں تک کہ بائیں ہاتھ سے بھی وہ اتنا ہی اچھا لکھ لیتا تھا جیسا وہ دائیں ہاتھ سے مواقع کو برباد کر رہے ہیں۔ ان کے پاس دوسری بار اس اندوہناک غلطی میں مبتلا ہونے کا کیا عذر ہے۔ کیا انہیں یاد نہیں کہ مومن کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ وہ ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

پتھرائے ہوئے درخت

پانڈیچری سے ۱۳ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے تروو کاری۔ یہاں قدیم زمانہ سے درختوں کے تنے کی شکل کے پتھر پڑے ہوئے تھے۔ عوام کا خیال تھا کہ یہ بھوتوں یا راکشوں کی ہڈیاں ہیں جن کو وشنو بھگوان نے ہلاک کیا تھا۔ حال میں ماہرین نے دریافت کیا کہ یہ دراصل فالس (FOSSILS) ہیں۔ یعنی قدیم زمانہ کے درختوں کے پتھرائے ہوئے تنے۔ اندازہ ہے کہ یہ درخت ۲۰ ملین سال پہلے پائے جاتے تھے۔ اس قسم کا ایک شجری فانسل نومبر ۵ ۱۹۷ء میں نئی دہلی لایا گیا اور یہاں نیشنل میوزیم میں عام نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ ان پتھرائے ہوئے درختوں لکھتا تھا۔ پھر اس نے اپنے کٹے ہوئے ہاتھ میں ایک قلم باندھا اور اس سے لکھنے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ ہاتھ کٹنے سے پہلے کے خط اور ہاتھ کٹنے کے بعد کے خط میں کوئی تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ یہ باکمال انسان اپنے گھر کے قید خانے میں ۵۶ سال کی عمر میں مر گیا ۔

کے پاس جانے سے ڈرتے تھے کہ کہیں بھوت انھیں پکڑ نہ لیں۔ اب وہ تاریخ فطرت کے ایک صفحہ کی حیثیت سے ان کو دیکھیں گے اور ان سے زمین کے قدیم حالات کا اندازہ کریں گے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page