Al-Risala · October 1976 · page 44

مفتی محمد عبده

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۶، صفحہ ۴۴

ان کی زندگی کا بیشتر حصہ سیاست کی نذر ہو گیا آخر میں انھوں نے تعمیری کام کرنا چاہا مگر اب موت کا وقت آ پہنچا تھا۔

مفتی محمد عبده

۱۹۰۵) اپنے وقت میں مصر کے مشہور ترین عالم تھے۔ اسلامی علوم کی تمام شاخوں میں انھیں غیر معمولی درک حاصل تھا۔ عربی اور فارسی کے علاوہ چالیس سال کی عمر میں فرانسیسی زبان بھی سیکھی اور اس میں بخوبی قدرت حاصل کرلی۔ وہ زندگی بھر جمال الدین افغانی کے کاموں میں ان کے دست راست رہے۔ بڑی بڑی سیاسی شخصیتیں مثلاً ریاض پاشا وزیر مصر) سعد زاغلول (وزیراعظم مصر) ان سے متاثر تھے۔ ساڑھے تین سالہ جلاوطنی کے بعد ۱۸۸۸ میں جب خدیو توفیق پاشا نے ان کو دوبارہ مصر میں داخل ہونے کی اجازت دی تو ان کی سفارش کرنے والوں میں لارڈ کرومر (۱۹۱۶ - ۱۸۱) بھی شامل تھے۔ ۱۸۸۰ میں وہ حکومت مصر کے سرکاری ترجمان "الوقائع المصریہ" کے مدیر مقرر ہوئے تو انھیں خصوصی اختیار دیا گیا کہ حکومت کے محکموں کی کارکردگی پر تنقید کریں۔ حالاں کہ اس سے پہلے یہ رسالہ صرف سرکاری اطلاعات اور حکومت کے محکموں کے اطلاعات کی اشاعت کا ذریعہ تھا۔ انھیں شعبہ اشاعت کے اعلیٰ عہدیدار کی حیثیت سے ملک میں شائع ہونے والے تمام اخبارات پر نگرانی کا اختیار حاصل تھا۔ ۱۸۹۶ میں جامعہ ازہر کی اصلاح کے لئے ایک اعلیٰ اختیار رکھنے والی کمیٹی بنی تو مفتی محمد عبده اس کے روح رواں تھے۔ ازہر کے نظام کو تبدیل کرنے میں ان کو حکومت کا پورا تعاون حاصل تھا۔ مجوزہ اصلاحات کی قیمت ادا کرنے کے لئے سرکاری خزانہ سے ایک ہزار پاؤنڈ سالانہ کی رقم منظور کرانے میں بھی انھوں نے کامیابی حاصل کرلی۔ ازہر کے اوقات کو درست کرنے میں انھیں اس حد تک کامیابی ہوئی کہ اس کی سالانہ آمدنی چار ہزار پونڈ سے بڑھ کر تقریباً ۱۵ ہزار پونڈ ہوگئی۔ ۱۸۹۹ میں وہ مصر کے مفتی مقرر ہوئے تو ان کی شخصی عظمت کی وجہ سے یہ عہدہ نئی اہمیت کا مالک بن گیا۔ اس سے پہلے مفتی کا عہدہ حکومت کے مشیر قانون کے ہم معنی تھا۔ بحران امور کے جن کی بابت سرکاری محکمے مسئلہ دریافت کرتے یا قانونی مشورہ طلب کرتے، مفتی کسی معاملے میں بالکل دخل نہیں دیتا تھا۔ مگر انھوں نے عام اہلِ ملک کو شرعی امور میں مشورہ دینا شروع کر دیا۔ اس طرح وہ عہدہ جس کی پہلے کوئی اہمیت نہ تھی بڑے اثر و اقتدار کا ذریعہ بن گیا۔ حتی کہ انھوں نے وقت کی فضا کے علی الرغم بعض بڑے انقلابی فتوے دیے۔ مثلاً یہ کہ عیسائیوں اور یہودیوں کے ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت کھانا مسلمانوں کے لئے جائز ہے۔ اسی طرح ڈاک خانوں کے سیونگ بنک میں روپیہ رکھنے اور اس سے سود لینے کا جواز۔ مصر کی محاكم شرعیہ (وہ عدالتیں جو نکاح، طلاق، خلع وغیرہ کی بابت شرعی فیصلے کرتی تھیں) کی کارکردگی کی تحقیقات کرائی گئی تو حکومت نے انھیں اس سلسلے کے کامل اختیارات دیئے۔ ۱۸۹۹ میں وہ مجلس قانون ساز کے مستقل رکن منتخب ہوئے۔ اپنی قوت تقریر اور قانونی صلاحیت کی وجہ سے وہ بہت جلد مجلس پر چھا گئے۔ ان کی رائے ہمیشہ مجلس کے اندر وزن کی مالک ہوتی تھی۔

مفتی محمد عبده فطری طور پر ایک اعتدال پسند شخصیت کے مالک تھے۔ اپنے ابتدائی دور میں وہ شیخ درویش نامی ایک صوفی کے گہرے عقیدت مند ہو گئے تھے جنھوں نے شیخ سنوسی سے طرابلس میں فیض حاصل کیا تھا۔ اس زمانے میں وہ اپنا بیشتر وقت صوفیانہ مشاغل میں صرف کرتے تھے۔ موٹے قسم کے کپڑے پہنتے اور معمولی غذا کھاتے تھے۔ ہمیشہ آنکھیں نیچی کئے ہوئے رہتے

‹ Previous page Next page › Contents of October 1976 All issues

Printed page